Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Sunday, March 28, 2021

موسمِ خوش رنگ پر سائرہ رباب کا تبصرہ

 

ڈاکٹر شاہد صیقی کی کتاب موسمِ خوش رنگ پر سائرہ رباب کا تبصرہ


موسمِ خوش رنگ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے کالموں کا ایسا مجموعہ ہے جس میں زندگی کے ہر موسم ، ہر رت کا منظر ملتا ہے ۔ روایتی کالموں کی طرح انکے موضوعات اور تحاریر عارضی اور وقتی افاديت کے حامل نہیں ، بلکہ آفاقی نوعیت کے ہیں ۔ یہ انٹللیکٹ اور جذبات ، concrete اور abstract کا منفرد اور حسین امتزاج ہیں ۔ انکی ہر تحریر specific سے general کی طرف ایک مسلسل سفر ہے ۔ معروضی مظاہرات ذات کے داخلی و روحانی سفر کا استعارہ بن جاتے ہیں ۔۔۔ بچپن ، گاؤں یا یونیورسٹی کی خوبصورت اور اداس کرنے والی یادیں ہوں ، یا ٹیکسلا ، بھنبھور اور قلعہ روہتاس کے سفر نامے ، استمار اور مزاحمت کی داستانیں ہوں یا تاریخ کے جھروکوں کی سیر ۔۔۔پر تاثیر الفاظ قاری کو اغاز سے اختتام تک اپنی گرفت میں جکڑ کر رکھتے ہیں ۔اور سب سے اہم ہماری تاریخ کے وہ مزاحمتی کردار جو تاریخ کے اوراق میں کہیں کھو گئے تھے ، ڈاکٹر شاہد انھیں ماضی کی دھول سے ڈھونڈ کر ہمارے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں اور یوں یہ نثر پارے ہمیں ہماری گمشدہ شناخت سے جوڑنے کا ایک زریعہ بن جاتے ہیں ۔مزید براں ان کی منفرد نظر اور انقلابی سوچ ان موضوعات کو ایک ایسا نیا پن عطا کرتی ہے کہ زندگی کی نیی جہتیں اور نیے رنگ وا ہوتے ہیں ۔ انکی تحریر شعور و آگہی سے بھرپور ہے کہ اس میں کہیں انگریزی ، اردو ، سرائیکی اور پنجابی ادب سے حوالہ جات ہیں تو کبھی میکس ویبر کی سوشل تھیوری کا ذکر ، کہیں شاعری اور نازک احساس ہیں تو کہیں فیئر کلف ،فوکو ، گامچی اور چومسکی کی پوسٹ ماڈرن تھیوریوں کا تذکرہ اور کہیں گلیمر کی چکا چوند کے پیچھے روتی سسکتی زندگی کا احوال ۔۔۔جو ایک طرف تو صاحب تحریر کے وسیع علم اور اعلی فہم و فراست کے عکاس ہیں تو دوسری طرف چیزوں اور واقعات کا سماجی ، تاریخی ، ثقافتی ، عمرانی ، سیاسی پس منظر میں گیان قاری کو شعور و آگہی کی اعلی منازل طے کراتا ہے ۔۔ حالات و واقعات کو طبقاتی کش مکش اور استماری طاقتوں کے تناظر میں بیان کرنا قاری کو enlightened کرتا ہے ۔ روایت کا شعور بھی ہے پر تخلیق کو روایت سے بلند درجہ حاصل ہے ۔ جمود کی جگہ زندگی کے حرکی نظریے کی وكالت ہر جگہ موجود ہے ۔ تمام تحاریر میں رجاییت ، امید اور انسپائریشن ہے ۔ مزاحمت اور انقلاب کے رنگ ہیں ۔ یہ کہنا ہر گز مبالغہ نہ ہو گا کہ انکے کالم محض صحافتی تحریریں نہیں بلکہ علمی و ادبی نثر پارے ہیں ۔

The book can  be ordered on line from Sang e Meel Publications  on the following address:

https://sangemeel.shop/products/adhay-adhoray-khuab

No comments:

Post a Comment