Shahid Siddiqui

Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Thursday, November 7, 2019

بریڈ لا ہال: آخرِ شب کے ہمسفر فیض نہ جانے کیا ہوئے

بریڈ لا ہال: آخرِ شب کے ہمسفر فیض نہ جانے کیا ہوئے

شاہد صدیقی
لاہور کے لوئر مال روڈ پر چلتے ہوئے کچہری چوک سے ایک سڑک بائیں طرف مڑتی ہے اس سڑک پر کچھ دور جائیں تو الٹے ہاتھ ایک کھلا قطعہ اراضی ہے اور اس کے بیچوں بیچ ایک بوسیدہ مگر پرشکوہ عمارت سر اٹھائے کھڑی ہے جسے ہم بریڈ لا ہال کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کے خوب صورت فنِ تعمیر میں مشرق و مغرب کا خوبصورت امتزاج ہے۔ میں یہاں تیسری بار آیا ہوں''ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے‘‘ کا عالم ہے۔ میں نے کبھی اس عمارت کو اندرسے نہیں دیکھا کیونکہ یہ کئی برسوں سے بند پڑی ہے اس کے دروازوں پر قفل پڑے ہیں۔ اس عمارت میں کیا خاص بات ہے جو ہمیں اپنی طرف بُلاتی ہے۔ اس کے لئے ہمیں وقت کی طنابیں کھینچنی ہوںگی۔ یہ 1900 کا سال ہے، اکتوبر کی 31 تاریخ اور لاہورکا ایک روشن دن، آج بریڈ لا ہال کا سنگِ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے کانگریس کے سینئر رہنما سریندر ناتھ بینر جی کو دعوت دی گئی ہے۔ اس عمارت کی تعمیرکا مقصد ہندوستان میں برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمتی سیاست کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ اس عمارت کا نام چارلس بریڈ لا کے نام پر رکھا گیا۔

Sunday, November 3, 2019

بھگت سنگھ:بنگا چک نمبر ۱۰۵ ضلع لا ئلپور

بھگت سنگھ:بنگا چک نمبر ۱۰۵ ضلع لا ئلپور

شاہد صدیقی
وہ کوئی خوشبوتھی، بانسری کی لَے تھی یا اس کے خیال کی چھائوں جومجھے اپنی طرف بلارہی تھی۔ فیصل آباد سے سترہ کلومیٹر دور‘ جڑانوالہ روڈ سے بائیں ہاتھ مڑیں تو تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر وہ بستی ہے جہاں مجھے جانا ہے۔ اس بستی میں ایک گھر ہے جس میں آزادی کے سرفروش بھگت سنگھ نے جنم لیا تھا، جس نے انگریزوں کی دشمنی وراثت میں پائی تھی۔ جس نے چوبیس سال کی عمر میں اپنے وطن کی آزادی کی خاطر پھانسی کے پھندے کوچوم کرگلے میں ڈالا تھا اور جس نے موت سے پہلے اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کرتے ہوئے نعرہ لگایا تھا۔ ''انقلاب زندہ باد‘‘۔
اس بستی کا نام 105 بنگا ہے۔ بنگا جانے والی سڑک کے دونوں طرف کھیتوں میں قدِ آدم فصلیں لہلہا رہی ہیں۔ گائوں کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں سے ہوتے ہوئے اب میں بھگت سنگھ حویلی کے سامنے کھڑا ہوں۔ پاکستان بننے کے بعد یہ حویلی وِرک خاندان کی تحویل میں آ گئی تھی۔ اس خاندان کے ہونہار سپوت ثاقب ورک نے اس حویلی کو میوزیم کی شکل دے دی ہے‘ جہاں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی نادر تصاویر آویزاں ہیں۔ حویلی میںدو کمرے اور ایک وسیع وعریض صحن ہے۔ اسی حویلی میں 1907ء میں بھگت کی پیدائش ہوئی۔ یہ خاندان حریت پسندوں کاخاندان تھا۔ اس کے والد کشن سنگھ اورچچا اجیت سنگھ اور سورن سنگھ‘ انگریزوں کے تسلط کے خلاف برسر پیکار تھے۔ انگریزوں کی حکمرانی سے نفرت اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ 13 اپریل 1919ء کو جب جلیانوالہ باغ میںجنرل ڈائر کے حکم پر 400 معصوم لوگوں کوموت کے گھاٹ اتارا گیا اس وقت بھگت سنگھ کی عمر صرف 12سال تھی اور وہ لاہور کے ایک سکول میں زیرِ تعلیم تھا۔ اگلے روز سکول جانے کے بجائے جلیانوالہ باغ پہنچ گیا جہاں کی مٹی میں معصوم لوگوں کاخون شامل ہوگیا تھا۔ وہ خون آلود مٹی ایک بوتل میں بھر کر گھر لے آیا۔ اس سانحے کے اثرات بھگت کے ذہن پر نقش ہوگئے۔ تحریکِ عدم تعاون کے نتیجے میں بھگت نے اپنا سکول چھوڑ دیا تھا، اس کے بعد اس نے نیشنل کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ بھگت کو جو پہلے ہی جذبۂ حب الوطنی سے سرشارتھا‘ نیشنل کالج کی شکل میں ایسی جگہ میسر آ گئی تھی جس نے اس کی سیاسی بصیرت کو پروان چڑھایا۔ نیشنل کالج کے بانیوں میں لالہ لاجپت رائے اور بھائی پرمانند کا شمار ہوتا ہے۔ یہاں بھگت نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے نوجوان بھارت سبھا کی نام سے ایک عسکری تنظیم قائم کی‘ جس کا بنیادی مقصد جدوجہدِ آزاد ی میںتیزی لانا تھا۔ بھگت نے 1924ء میں ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن (HRA) میں شمولیت اختیار کی۔ بھگت اور اس کے ساتھی آزادی کی اس جدوجہد میں قومی سطح پر نہایت فعال کردار ادا کرنا چاہتے تھے اور یہ موقع انہیں جلد میسر آ گیا جب 30 اکتوبر 1928ء کو سائمن کمیشن نے لاہور آنے کا اعلان کیا۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر احتجاج کے لئے ہزاروں لوگوں کااجتماع تھا‘ جس کی قیادت نامور کانگریسی راہنما لالہ لاجپت رائے کر رہے تھے۔ اس مشتعل ہجوم پر پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ انگریز افسر سکاٹ کے اشارے پر لالہ لاجپت پر انتہائی بہیمانہ جسمانی تشدد کیا گیا حتیٰ کہ ان کے جسم سے خون بہنے لگا اور وہ زمین پر گر گئے۔ لالہ لاجپت زخموں کی تاب نہ لاسکے اور17 نومبر 1928ء کو اس جہاں فانی سے رخصت ہو گئے۔ اس واقعے کا بھگت اور اس کے ساتھیوں پر بہت گہرا اثر ہوا۔ HRA کے اراکین نے ایک میٹنگ منعقد کی جس میں دو اہم فیصلے کئے گئے۔ بھگت سنگھ کی تجویز کے مطابق تنظیم کا نام بدل کر ہندوستان سوشلسٹ ری پبلیکن ایسوسی ایشن (HSRA) رکھ دیا گیا۔ دوسرا اہم ترین فیصلہ سکاٹ کے قتل کا تھا۔ جن لوگوں نے سکاٹ کو قتل کرنا تھا ان میں چندرا شیکھر آزاد، بھگت سنگھ، راج گرو اور جے پال کا نام تھا۔ لیکن شناخت میںغلطی کی بنا پر ان لوگوں نے سکاٹ کے بجائے ایک اور ASP سانڈرز کو مار ڈالا۔ بھگت اور اس کے ساتھی جا ئے وقوع سے فرار ہو گئے اور مزنگ روڈ پر واقع اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ پولیس آفیسر کے قتل نے پورے پنجاب میں ہلچل مچا دی اور پولیس نے لاہور کا محاصرہ کر لیا لیکن بھگت سنگھ اور اس کے دوست ایک اور انقلابی درگا دیوی کی مدد سے کلکتہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ کلکتہ میں بھگت کی ملاقات بہت سے انقلابیوں سے ہوئی جن میں جندر ناتھ دس بھی شامل تھا جو بم بنانے کا ماہر تھا۔
برطانوی حکومت علاقے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور بدامنی سے بخوبی آگاہ تھی لہٰذا اس نے اسمبلی میں دو بل پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا جن میں سے ایک بل کا نام ''پبلک سیفٹی بل‘‘ (Public Safety Bill) اور دوسرے کا نام ''ٹریڈ ڈسپیوٹ بل‘‘ (Trade Dispute Bill) تھا۔ ان دونوں بلوں کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کی پامالی تھا۔ اس صورتحال کے تناظر میں بھگت سنگھ اور بی کے دت نے اسمبلی ہال میں بم پھینکنے کا فیصلہ کیا تاکہ قانون سازوں کی توجہ حاصل کی جائے اور وہ حکومت سے رابطہ کریں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ دیسی ساختہ بم بے ضرر قسم کے تھے اور ارادتاً ایسی جگہوں پر پھینکے گئے جہاں کوئی آدمی زخمی نہ ہو پائے۔
پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق بھگت سنگھ اور بی کے دت نے رضاکارانہ طور پر اپنی گرفتاری پیش کی۔ ان دونوں کے اپنے ساتھی‘ جے پال اور ہنس راج سانڈرز کے قتل کیس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے ٹرائل کورٹ کا پلیٹ فارم استعمال کیا تاکہ وہ اپنا پیغام کورٹ کی پیشیوں کے ذریعے بیرونی دنیا تک پہنچا سکیں کیونکہ ان پیشیوں کی باقاعدہ کوریج اخباروں میں ہو رہی تھی۔
عدالتی کارروائی نے بھی ڈرامے کی شکل اختیار کر لی تھی کیونکہ برطانوی راج کا بنیادی مقصد ان آوازوں کو دبانا تھا جوکہ ان کی حاکمیت کو چیلنج کر رہی تھیں۔ اس عدالتی سیاست کا نتیجہ یہ نکلا بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گروکو موت کی سزا سنا دی گئی۔ یہ خبرسنتے ہی سارے ہندوستانی سکتے میں آ گئے۔ بھگت اور اس کے ساتھیوں نے ہمت نہیں ہاری اور اس امتیازی سلوک کے خلاف طویل بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ یہ بھوک ہڑتال 110 دن تک جاری رہی۔ اس ہڑتال کا بنیادی مقصد بیرونی دنیا کوسلطنتِ برطانیہ کا مکروہ چہرہ دکھانا تھا۔ 23 مارچ 1931ء کی شام کو‘جب بھگت اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو تختہ دار پرکھڑے‘ انہوں نے ''انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ جیل کے افسروں کے لئے یہ بات حیرت کا باعث تھی کہ پھانسی کے تختے پر کوئی کیسے اتنی جرأت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ انہیں شائد معلوم نہیں تھا کہ اس استقامت کے پیچھے گہری انقلابی فکرکار فرما تھی۔ اس جرأت کے پس منظر میں ایک طویل سفرتھا اور اس سفر کے کئی روشن سنگِ میل تھے جن میں بھگت کا اپنا خاندان، جلیانوالہ باغ کے سانحے کا اثر، نیشنل کالج کی آبیاری اور انقلابی تنظیموں سے روابط تھے۔ دوسرا اہم پہلو جس نے بھگت سنگھ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ وہ کتابوں کا عمیق مطالعہ تھا۔ بھگت کتابوں کا رسیا تھا اس کے لئے کتابوں کے بغیر زندگی کا تصور ادھورا تھا۔ اس نے اپنے وکیل اور دوست سے بھی یہی التجا کی تھی کہ جیل میں اسے کتابوں کی رسد کبھی معطل نہ ہو۔ بھگت نے دوارکا داس لائبریری میں موجود انقلابی افکار کی تمام کتابیں کھنگال لی تھیں۔ بھگت نے انقلابی فلسفوں کو خود سے پڑھا اور سمجھا تھا۔ وسیع مطالعہ نے اسے عقلمندانہ سوچ، پُراثر دلائل اور ترغیبی مہارتوں سے لیس کر دیا تھا۔ جس دن اسے پھانسی دی جانا تھی اسی دن اس کے وکیل نے اسے ''انقلابی لینن‘‘ کتاب پیش کی۔ جب جیل کا ہرکارہ پھانسی کا پیغام لے کر اس کی کوٹھڑی میں آیا تو یہی کتاب پڑھ رہا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے تختۂ دار پر آیا 'انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا اور پھانسی کے پھندے پر جھُول گیا۔
بھگت سنگھ کی آبائی حویلی کا درخت 
میں ماضی کی راہوں سے واپس بھگت سنگھ کی حویلی آ جاتا ہوں۔ اُس کمرے کو دیکھتا ہوں جہاں بھگت سنگھ پیدا ہوا تھا اور اس کے ساتھ وہ بیٹھک‘ جہاں وہ اپنے انقلابی دوستوں کے ساتھ مل کر وطن کی آزادی کے منصوبے بنایا کرتا تھا۔حویلی کے صحن میں بیری کا وہی پُرانا درخت ہے جس کے سائے تلے وہ کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا۔ ساری چیزیں اُسی طرح ہیں۔ حویلی کا دروازہ کھلا ہے جیسے وہ بھگت کا انتظار کر رہا ہو۔ بھگت تو اس حویلی میں کبھی واپس نہیں آئے گا لیکن کوئی خوشبو ہے، بانسری کی لَے یااس کے خیال کی چھائوں جواُس کے چاہنے والوں کو اپنی طرف بُلاتی رہتی ہے۔

Wednesday, October 23, 2019

آدھے ادھورے خواب

 آدھے ادھورے خواب 

عائشہ احمد کا تبصرہ

مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے ڈاکٹر شاہد صدیقی سے ان کی ایک تحریر پڑھنے کے بعد اک سوال کیا تھا، "سر آپ کی یہ کہانی بھی ادھوری کیوں ہے۔" کچھ توقف کے بعد مسکرا کر وہ ٹال گئے، میرے مزید اصرار کرنے پر انھوں نےجواب کے بجائے اپنی کتاب تھاما دی۔ 'آدھے ادھورے خواب' نہ صرف خوابوں کی کتاب ہے، یہ کتاب ہے تو رشتوں کی، محبتوں کی ہے، یہ کتاب ہے تبدیلی کی۔ اس کتاب کے ہر ورک پہ اک سبق رقم ہے، ہر کردار ایک کہانی ہے۔ ہر شخص کسی جستجو میں ہے، ایک جذبہ ہے جس نے تمام کرداروں کو جوڑ رکھا ہے۔ اور یہ جذبہ تبدیلی (reform) کا ہے، وہی جذبہ جس کے تحت یہ ناول لکھا گیا۔
ویسے تو کہانی کا کوئی بھی کردار ثانوی نہیں، پھر چاہے وہ بینش اور تصور کی learning spirit ہو یا شمائل کی women empowerment ، شمائل کا کردار ایک زندہ مثال ہے کہ اصل خوشی پیسے میں نہیں personal growth میں ہے۔ ان سے ہٹ کر اگر امتشال اور پروفیسر رائے

Wednesday, October 16, 2019

اثاثہ

اثاثہ

شاہد صدیقی
آج  8اکتوبر ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطورِ وائس چانسلر 4سالہ ٹرم کاآخری دن !آج کے دن کاآغازبھی معمول کے مطابق تھا۔میں ہمیشہ کی طرح آٹھ بجے اپنے دفترمیں موجود تھا ۔ ان 4سال میں یہ معمول شاید ہی کبھی ڈسٹرب ہوا ہو۔ مجھے گورڈن کالج میں پروفیسرسجاد شیخ کی آخری کلاس یادآگئی۔ جب ایم اے سیشن کے اختتام پرانہوںنے ہمیں تین باتوں کا درس دیاتھا۔ یہ وہ زادِ راہ تھا‘ جومیں نے اپنے پلے باندھ لیاتھا۔ پابندی وقت‘کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کی منصوبہ بندی اوردوسروں کی عزت نفس کاخیال۔ میں پیچھے مڑکر زندگی کے سفرپر نگاہ ڈالتا ہوں‘ تو شیخ صاحب کی یہ تین نصیحتیں میرے راستے کی جگمگاتی روشنیوں کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 4سال کے دوران میںنے کبھی چھٹی نہیں کی۔ مجھے یقین ہے ‘سجادشیخ صاحب یہ جان کر جنت کے روشوں پرچلتے ہوئے ضرورخوش ہوئے ہوں گے۔
آج مجھے یونیورسٹی میں اپنا پہلادن بھی یادآرہاہے ‘جب میں لاہورسے اسلام آباد
یونیورسٹی کو بطورِ وائس چانسلر جائن کرنے کے لیے آرہاتھا۔ یہ یونیورسٹی میرے لئے نئی نہیں تھی‘ میں یہاں پرپہلے بھی پڑھاتارہا۔اس کے بعد ملک کی کئی معروف یونیورسٹیوں‘ مثلاً: آغاخان یونیورسٹی کراچی‘ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز‘ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اورلاہور سکول آف اکنامکس کے ساتھ وابستہ رہا۔ اب ایک مدت کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطور وائس چانسلر آرہاتھا۔ اس عرصے میں یونیورسٹی بدل چکی تھی۔نئی عمارتیں ‘نئے لوگ اورطلباء کی تعداد 13لاکھ ہوچکی تھی‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سے چیلنجز بھی تھے‘ جن میں سرفہرست ایک طویل عرصے سے سلیکشن بورڈ کا انعقاد نہ ہوناتھا۔ میںنے یونیورسٹی کے ہرڈیپارٹمنٹ کے افراد سے اجتماعی اورانفرادی ملاقاتیں کیں۔ان ابتدائی ملاقاتوں میں تین چیزوں کاوعدہ کیا۔ عزت نفس‘ اعتماد‘ اورکام کرنے کی آزادی۔میرے لیڈرشپ لٹریچر مطالعے کاحاصل یہ تھا کہ Give them the best & take best out of them(ملازمین کوبہترین سہولتیں فراہم کرو اور ان سے بہترین کارکردگی لو) میں نے ان 4سال میں اس اصول پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی اور اس کے مثبت نتائج ملے۔دوسرے ہی ہفتے میں اپنے ٹارگٹس کاتعین کیا اوران ٹارگٹس کو اپنی ہرمیٹنگ میں دھراتا رہا‘تاکہ سب ساتھیوں کے ذہنوں میں یہ راسخ ہوجائیں اورہماری منزل کاتعین آسان ہوجائے۔ ان میں سرفہرست تحقیق(Research)کاہدف تھا۔ تحقیق کے کلچر کے فروغ کے لیے ایکResearch Incentives Programmeکاآغازکیاگیا‘ جس کے مطابق کسی بھی Accredited Journalمیں ریسرچ پیپر کی اشاعت پرکیش ایوارڈ قومی سطح کی کانفرسوں میں پیپرزپریزٹیشن پر یونیورسٹی کی سپانسرشپ‘ ریسرچ پراجیکٹس کیلئے یونیورسٹی کی طرف سے مالی معاونت شامل تھی تحقیق کے عمل میں لائبریری کا اہم کردار ہوتاہے۔ اس کے اوقات کو فوری طورپربڑھا کر صبح آٹھ سے شام سات بجے تک کردیاگیا اورہفتہ اتوار کی چھٹی ختم کردی گئی۔ یوں اب یونیورسٹی کی لائبریری ہفتے کے ساتوں دن کھلی رہتی ہے۔
کسی بھی یونیورسٹی میں صرف تحقیق کاہونا کافی نہیں ‘تحقیق کے نتائج کا دوسروں تک پہنچنابھی اتناہی اہم ہے‘ اس کے دواہم ذرائع ریسرچ جرنلز اورریسرچ کانفرنسرز ہیں۔ ان چارسال میں ہم نے اس شعبے پربھرپور توجہ دی اوراس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے 17ریسرچ جرنلز شائع ہورہے ہیں۔ تحقیق کے نتائج کی ترویج میں ریسرچ کانفرنسز کابھی اہم کردار ہوتاہے‘ ان 4سال میں یونیورسٹی میں 42کانفرنسز کا انعقاد ہو ا۔ اس کے علاوہ 250کے قریب سیمینار منعقد ہوئے اورہرسال لٹریچر کارنیوال کاانعقاد کیاگیا۔یوں ان 4سال میں یونیورسٹی کوعلمی‘ تحقیقی اور ادبی سرگرمیوں کامرکز بنادیاگیا‘جہاں ملک کے مایہ ناز ادیب‘ شاعر‘ صحافی اور دانشور تشریف لائے‘ چندنام جویادآرہے ہیں ان میں: شکیل عادل زادہ‘ زاہدہ حنا‘ فاطمہ حسن‘ طاہرمسعود‘ روف کلاسرا‘ حامد میر‘ سجاد میر‘ سہیل وڑائچ‘ منصور آفاق‘ وجاہت مسعود‘ سلیم صافی‘ جاویدصدیق‘ امینہ سید‘ حمیدشاہد‘ جلیل عالی‘ اظہارالحق‘ جاوید چوہدری‘ ہارون الرشید‘ مجیب الرحمن شامی‘الطاف قریشی‘مجاہد منصوری‘ خالد مسعود‘ خورشید ندیم‘ مظہربرلاس‘ نعیم مسعود‘ رؤف طاہر‘سعدیہ قریشی‘ افتخار عارف‘ آفتاب اقبال شمیم‘عقیل عباس جعفری‘ احسان اکبر اور ان جیسے کتنے ہی جگمگاتے نام ہیں‘ جن کی روشنی سے یونیورسٹی کے دروبام منور رہے۔
ان 4برس میں یونیورسٹی کے ریسرچ پیپرز کی تعداد میں کئی گنااضافہ ہوا‘اسی
طرح یونیورسٹی کی فیکلٹی نے ایچ ای سی اوربین الاقوامی سطح پربہت سے ریسرچ پراجیکٹس جیتے۔ایک اہم ٹارگٹ نصاب کواپ ڈیٹ کرنا تھا‘ جس کے لیے ایک ٹاسک فورس کاقیام عمل میں لایاگیا اوریونیورسٹی کے تمام پروگرامز کے نصاب اورکتابوں کواپ ڈیٹ کیاگیا۔ چھبیس نئے پروگرامز متعارف کرائے گئے آٹھ نئے شعبوں کی منظوری دی گئی۔ ملازمین کی پیشہ وورانہ تربیت کااہتمام تین سطحوں‘کیمپس‘ نیشنل اورانٹرنیشنل سطح پرکیاگیا۔ طلبا کی شکایت کے ازالے کے لیے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کانظام متعارف کرایا گیا۔ اس کے علاوہ کال سینٹرز کاانعقاد عمل میں آیا۔ ایڈمیشن‘ کتابوں کی میلنگ اورامتحانات کے شعبوں میں آئی ٹی کے استعمال سے ان کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ایک اہم ٹار گٹ کمیونٹی سروس تھا‘ جس میں معاشرے کے مظلوم طبقوں کی دادرسی شامل تھی۔ یونیورسٹی میں تمام سپیشل سٹوڈنٹس ‘چاہے معذوری کی کوئی بھی قسم ہو ‘کے لیے ہرسطح پر مفت تعلیم کی سہولت مہیا کی گئی۔ اسی طرح جیل کے قیدیوں کے لیے مفت تعلیم کے پراجیکٹ کوزیادہ مؤثر بنایاگیا۔اس سال تقریباً ایک ہزار قیدی مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔خواجہ سرائوں کے لیے بھی مفت تعلیم کی سہولت دی گئی ہے۔ وہ بچیاں جن کاتعلق پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے ہے اورجومالی وسائل کی کمی کی وجہ سے سکول تک نہیں پہنچ سکیں‘ یونیورسٹی انہیں بنیادی تعلیم پانچویں جماعت اور آٹھویں جماعت تک مفت تعلیم کااہتمام کیا ہے‘ جس کی بدولت سینکڑوں بچیوں کو تعلیم کے زیورسے آراستہ ہوئیں۔ بینائی سے محروم طلباء کے لیےAccessibilityسینٹر کا قیام عمل میں لایاگیا‘ جس کی بدولت بینائی سے محروم افراد کسی دقت کے بغیر لائبریری کااستعمال کرسکتے ہیں‘ جس طرح معاشرے میں محروم طبقے ہیں‘ اسی طرح پاکستان میںکچھ محروم علاقے بھی ہیں۔ فاٹا اوربلوچستان کے بچوں کے لیے مفت تعلیم کااعلان کیاگیا ‘جس کے نتیجے میں ان علاقوں سے داخلے کی درخواستوں میںکئی گنااضافہ ہوا۔
مجھے پچھلے دوماہ سے ہونے والی الوداعی تقریبات یادآنے لگیں۔ یونیورسٹی کے اکیڈمک اورایڈمنسٹریٹو شعبوں نے خوبصورت الوداعی تقریبات کااہتمام کیا اورمیرا ایمان محبت کے معجزوں پرپختہ ہوگیا۔ چارسال کاسفر چندلمحوں میں میری نگاہوں کے سامنے سے گزرگیا۔ میں شایدگئے وقت کے سحرمیں کچھ دیراوررہتا کہ دروازے پردستک مجھے ماضی سے حال میں لے آئی۔دروازے پر دعوت کے منتظمین تھے۔ یہ آخری الوداعی دعوت تھی‘ جس کااہتمام ایمپلائز ویلفیئرایسوسی ایشن نے کیاتھا۔ ہال کھچا کھچ بھراہوا تھا ۔اس اجتماع میں مالی بھی تھے‘ نائب قاصد بھی تھے‘ سینٹری ورکرزبھی تھے‘ ڈرائیور بھی تھے اورگارڈز بھی۔ ہال کے دروازے سے سٹیج تک سرخ پھولوں کا قالین سا بچھ گیا تھا۔ سٹیج پربیٹھے میں ان چہروں کو دیکھ رہاتھا‘ جومحبت کے جذبوں کی آنچ سے دہک رہے تھے‘ جن سے شاید پھر کبھی ملاقات نہ ہو۔ سٹیج سے تقریریں ہورہی تھیں‘ محبت کے جذبوں کااظہارہورہاتھا اورمیں سوچ رہاتھا: ان 4سال میں میرے گھروالوں کوہمیشہ یہ شکایت رہی کہ میں ان کو وقت نہیں دیتا۔شام کو جب دیرسے گھرپہنچتا توان کی آنکھوں سے یہ سوال جھانک رہاہوتا کہ آخرمیں یہ سب کیوں کررہا ہوں اس جنون اوردیوانگی کا حاصل کیا ہے؟ میرے پاس اس وقت اس سوال کاکوئی جواب نہ ہوتا لیکن آج مجھے اس سوال کاجواب مل گیا ہے ۔میں ہال میں بیٹھے ہوئے چہروں پرنگاہ ڈالتا ہوں‘ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی‘ ان کی نگاہوں میں محبت کی مٹھاس ‘ اوران کے چہروں پرجذبوں کی آنچ کومحسوس کرتاہوں۔مجھے یوں لگتا ہے یہی میری چارسالہ محنت کاحاصل ہے۔ میری عمر کی سب سے بڑی کمائی اور میری زندگی کاسب سے قیمتی 'اثاثہ‘۔

Thursday, October 10, 2019

ڈاکٹر شاھد صدیقی: ھجوم میں ایک آدمی

ڈاکٹر شاھد صدیقی: ھجوم میں ایک آدمی

سعدیہ قریشی

اکتوبر2014ء میں جب پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تو ان کا استقبال ایک ایسی فضا نے کیا جہاں ہر طرف بکھرائو الجھائو اور غیر حقیقی صورت حال کا راج تھا۔

پہلی ہی سرکاری میٹنگ میں انہیں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں سے یونیورسٹی کے داخلوں کی شرح بہت نیچے آ چکی ہے۔ اگر صورت حال یہی رہی تو یونیورسٹی ملازمین کی تنخواہیں دینے کے قابل نہ رہے گی۔ امیج اس وقت اس کا ادارے کا یہ بن چکا تھا کہ یہ سوئی ہوئی کھوئی ہوئی سی جامعہ تھی۔ جس کی ڈگری کی قدروقیمت مارکیٹ میں گھٹتی جا رہی ہے کہ تحقیق کا یہاں کوئی کلچر نہیں تھا
ریسرچ ہو گی تو ریسرچ جرنلز چھپیں گے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یونیورسٹی اسی پرانی ڈگر پر گامزن تھی۔ آن لائن ایڈمشن کا تصور تک موجود نہ تھا۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسی چیزیں تھیں کہ یہ ادارہ ملک کے دوسرے اہم تعلیمی اداروں کے مقابلے میں کافی بیک ورڈ تھا۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی اوپن یونیورسٹی میں آنے سے قبل لمز آغا خان یونیورسٹی اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ جیسے ماڈرن اداروں سے منسلک رہ چکے تھے۔یوں ملک کے نامور اور ممتاز تعلیمی اداروں میں کام کرنے کا تجربہ ان کے پاس موجود تھا۔ ان اداروں کے ماحول اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ماحول میں جو خوفناک تفاوت موجود تھا اس نے ہی ڈاکٹر شاہد صدیقی کے دل میں یہ جوت جگائی کہ وہ اس ادارے کے لیے کچھ کر کے جائیں۔
ڈاکٹر صاحب نے اس چار سال کے عرصہ میں جو کچھ اس ادارے کو دیا اس کی فہرست بہت طویل ہے۔ لیکن چند چیزوں کا تذکرہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اور یہ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم صرف ماتم اور رونے دھونے سے نکل کر کامیابی امید تعبیر اور روشنی کو بھی سیلیبریٹ کرنا سیکھیں۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ خود بھی تحقیق کے آدمی ہیں اور ملک کی بہترین یونیورسٹیوں کا تجربہ اور مشاہدہ ان کے پاس تھا کہ تحقیق کی فضا میں ہی تعلیمی ادارے نشو نما پاتے ہیں سو انہوں نے تحقیق کا کلچر بنانے پر بطور خاص توجہ دی اور تحقیق کے میدان میں عرق ریزی کرنے والے سکالرز کو کیش ایوارڈ دینے کے incentiveکا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اگر کوئی ریسرچ پراجیکٹ کرنا چاہتا ہے تو یونیورسٹی اس کو فنڈ مہیا کرے گی۔
بین الاقوامی کانفرنس میں اگر کوئی سکالر اپنی ریسرچ لے کر جانا چاہے گا تو اس کے ٹریولنگ اخراجات یونیورسٹی برداشت کرے گی۔ ریسرچ اور اپ ٹو ڈیٹ لائبریری کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔
ان سے پہلے کلچر یہ تھا کہ لائبریری صبح آٹھ بجے کھلتی 4بجے بند ہو جاتی۔ ہفتہ اتوار کو چھٹی ہوتی۔ لیکن اب لائبریری ہفتے کے ساتوں دن کھلی رہتی ہے۔ صبح آٹھ سے شام سات بجے تک لائبریری کا وقت ہے۔ 2014ء سے پہلے سیمینار کانفرنسوں اور ریسرچ جرنلز کا کوئی کلچر یونیورسٹی میں موجود نہ تھا۔ مگر آج 4سال کے بعد کامیابیوں کی فہرست میں تحریر ہے کہ 39کانفرنسز اس یونیورسٹی نے کروائیں۔ دو سو سے زائد سیمینارز منعقد کئے
فاصلاتی تعلیم کے باوجود یہاں سے منسلک طلبہ و طالبات کو ایک علمی فضا میں انٹرایکٹ کرنے کا موقع ملا۔ ان کا ایکسپوژر بڑھا۔17ریسرچ جرنلز یونیورسٹی نے چھاپے۔ ایک اور زبردست کام ڈاکٹر صاحب نے یہ کیا کہ ہر سطح پر یونیورسٹی کے ملازمین کے طور پر ٹریننگ کا بندوبست کیا۔ جن میں پروفیسرز اساتذہ لائبریرین۔ مالی اور دوسرا ٹیکنیکل سٹاف بھی شامل ہے۔ اوپن یونیورسٹی پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہوتا تھا کہ سال ہا سال سے ان کا نصاب اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بہت سے چیزیں تیزی سے irrelevantہو جاتی ہیں۔ یہ بھی ڈاکٹر شاہد صدیقی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ 90فیصد نصاب کو اپ ڈیٹ کیا۔
26نئے پروگرام یونیورسٹی نے شروع جو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ آن لائن ایڈمشن کا نظام ہو یا پھر آن لائن شکایت سیل کا قیام یا پھر سوشل میڈیا پر Life at Aiouکے نام سے ویب سائٹ بنانا۔ ہر ممکن کوشش کی گئی کہ یونیورسٹی کے بیک ورڈ امیج کو کھرچ کر جدید اور وائبرینٹ امیج بنایا جائے تاکہ اس سے منسلک طلبہ و طالبات میں فخر کا احساس اجاگر ہو۔
اس کے علاوہ بے شمار ایسے کام ہیں جس سے یونیورسٹی کے ملازمین کے اندر غیر یقینی کے احساسات کا خاتمہ ہوا۔
کچھ ایسے کام جو ڈاکٹر صاحب نے ان چار سالوں میں کر کے لوگوں کی دعائیں سمیٹیں وہ یہ ہیں کہ پنشن کا سارا نظام آن لائن کر دیا۔ اب بزرگ پنشنرز کو نہ تو قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے نہ بنکوں کے باہر چیک لینے کے لیے خوار ہونا پڑتا ہے۔ بس ایک ٹیکسٹ میسج سے انہیں اطلاع ہو جاتی ہے کہ ان کے پیسے بنک اکائونٹس میں چلے گئے ہیں۔
دوسرا کام ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ویلکم ہوم لائونج بنایا، جہاں چائے کافی کتاب ٹی وی کی سہولتیں مہیا کی۔ گریڈ1 سے گریڈ 22تک کے ریٹائرڈ ملازمین یہاں آ کر خوشگوار وقت گزار سکتے ہیں۔
فی میل اور میل ایمپلائز کے لیے دو فٹنس سنٹر بنائے۔ ورزش کی جدید مشینیں رکھی گئیں اور ساتھ ہی تربیت یافتہ ٹرینر رہنمائی کو موجود ہیں
۔ڈے کیئر سنٹر کو اپ ڈیٹ کیا۔ نئی بلڈنگ میں منتقل کر کے اسے اے سی جھولوں اور کھلونوں سے مزید آرام دہ بنایا۔
منفرد اور حیران کن کام کرنے والے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے ایک اور خوبصورت کام یہ کیا کہ یونیورسٹی میں کام کرنے والے مالیوں اور سینٹری ورکرز کے لیے بھی الگ سے ریسٹ رومز بنائے۔ اب وہ اپنے کام کے بعد اپنے ریسٹ روم میں جا کر چائے پیتے ہیں اور گپ شپ کرتے ہیں اور رخصت ہونے والے میزبان وی سی کے لیے اداس بھی ہیں اور دعاگو بھی۔
بطوور وائس چانسلر ڈاکٹر صاحب کی مدت ملازمت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ختم ہو رہی ہے الوداعی تقریبات کا سلسلہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ ایک فیئر ویل پارٹی یونیورسٹی کے مالیوں نے وی سی صاحب کو دی گزشتہ چار سال میں انہوں نے اس اجڑے گلستان کو مہکتے مہکتے باغ میں بدل دیا ہے اور اب وہ ایک باغباں کی طرح ہی اس کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔ کہ یہ مہکتا ہوا باغ کسی ایسے باغباں کے ہاتھ میں جائے جو اس کی بہار کی حفاظت کر سکے۔
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی کسی بھی طور اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ ان کی ٹرم میں توسیع ہو۔ بقول ان کے وہ اپنے حصے کا کام کر چکے ہیں۔ سو مسافر اب اگلی منزل کے لیے رخت سفر باندھ چکا ہے۔
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ تعلیم جیسا بنیادی شعبہ اہل اختیار اقتدار کی بے توجہی کی نذر ہوا۔ حال یہ ہے کہ اوپن یونیورسٹی سمیت وفاق کی تین دوسری جامعات کے وی سی صاحبان کی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے۔ چھ ماہ ہو چکے ہیں نئے وی سی کی تعیناتی کے لیے اخبارات میں اشتہار پرمگرپیش رفت صفر ہے۔ ایڈہاک ازم سے ادارے پنپتے نہیں۔ تنزلی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ایشو وزیر تعلیم شفقت محمود کی فوری توجہ کا مستحق ہے۔
اکتوبر کے پہلے ھفتے میں ڈاکٹر صاحب اس ادارے سےرخضت ھورھے ھیں جس کو سلجھانے اور سنوارنے میں انہوں نے اپنی چار سالہ وی سی شپ کی مدت میں ایک بھی رخصت نہیں ۔
ھر روز اپنے دن کا آغاز صبح آٹھ بجے کیا۔
کسی بیرونی دورے پر نہیں گئے۔
اور اس چارسال کی ریاضت کا ثمر ھے کہ آج یونیورسٹی داخلوں کی شرح اور کیش فلو میں اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ھے۔
محروم طبقے کے لیے ڈاکٹر صا حب کی توجہ خصوصی رھی۔
انہوں نے جیل کے قیدیوں کے لیے۔۔معذور طلبہ کے لیے۔۔وانا اور فاٹا کےطلبہ کے لیے۔۔اور ٹرانس جینڈرز کے لیےمفت تعلیمی سلسلوں کا اغاز کیا۔
بلو چستان میں میٹرک تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کیا۔
بصارت سے محروم طلبہ کے لیے جدید کمپیوٹرائزڈ لائبریری قائم کی پھر صرف اوپن یونورسٹی کے طلبہ تک محدود نہیں رکھا ۔۔اب کسی تعلیمی ادارے کا نابینا طالب علم اس جدید لائیبریری کو استعمال کر سکتاھے۔۔
وہ حیران کن ویزن رکھنے کے ساتھ ساتھ درد دل کی دولت سے بھی مالا مال ھیں۔۔کاش پاکستان کی ھر یونورسٹی کے نصیب میں ایسا سر براہ ھو۔
کاشف حسین غائر کے دو شعر اس عظیم پاکستانی کے نام جس نے اس خرابے میں جہاں ھم ھمیشہ اداروں کی تباھی اور بربادی کی داستانیں سنتے ھیں ، ایک تباہ ھوتے ادارے کو کامییابی کی راہ پر ڈالنے کی روشن مثال قائم کی
دیکھ تو اس کباڑ خانے میں
کوئی شے قیمتی نکل آئے
بات تو جب ھے اتنے لوگوں میں
ایک بھی آدمی نکل آ ئے۔۔! !