Shahid Siddiqui

Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Tuesday, January 21, 2020

'زیر آسماں': لکھت اور لکھاری

تحریر: شفیق انجم

عالمگیریت کے خروش میں، مقامیت سے انحراف کے اس زمانے میں اگر کوئی اپنی مٹی سے جڑے رومانوں کی بات کرے، اپنی ثقافت کے اجلے رنگوں کو یاد کرے، اپنی تاریخ کے روشن حوالوں اور کرداروں اور قصوں کی کھوج کرے، اپنے آس پاس کی زندگی کے تابندہ نقش ابھارے، اپنے گزرے ہوئے اچھے کل سے وابستہ یادوں کو دوہرائے اور اپنے گھمبیر آج میں سے روشنی کے نشان ڈھونڈ نکالے اور لکھے اور بار بار لکھے تو یقینا حیرت ہوتی ہے۔ اور یہ حیرت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب پتہ چلے کہ شخص مذکور کوئی قدیمی وضع کا منجمد خیال آدمی نہیں بلکہ جدید اور روشن خیال آدمی ہے۔ محمد حسن عسکری اور احسن فاروقی کی روایت کا آدمی؛ کہ جس کی ساری زندگی انگریزی زبان و ادبیات کی سیاحی میں گزری ہے، جس نے سماجی فلسفوں اور علوم تاریخ و تہذیب کو ازبر کر رکھا ہے، جو ممتاز ماہر تعلیم بھی ہے اور عصری دانش کا رمز آشنا بھی۔ جو استاد بھی رہا ہے، استادوں کا نگران بھی اور ایک عظیم جامعہ کا وائس چانسلر بھی، جس نے ملک و بیرون ملک پڑھا بھی ہے اور پڑھایا بھی، جو پچھلی کئی دہائیوں سے مقتدر علمی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی سلسلہ ہائے قیل و قال کا بنیادی کردار بھی رہا ہے اور عینی شاہد و نقاد بھی۔ پس حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسے دور میں جب سیاست کی غلام گردشوں میں گھومتی ادھوری خبریت اور عالمی بازاروں سے مستعار لی ہوئی بے رس جدیدیت ہمارے لکھاریوں کا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہے، یہ مرد باکمال اپنی شناخت کے دیسی حوالوں پر مصر ہے اور ان کو ابھارنے اور نمایاں کرنے میں ذرا بھی متامل نہیں۔ اس نے جرات کے ساتھ لکھا ہے، فخر سے اپنے لوکیل میں اترا ہے اور ایک دیوانہ وار سرشاری کے ساتھ بتایا ہے کہ خوشی اور سکون یہیں کہیں ہمارے آس پاس ہی ہے، روشنی اور نور کی کرنیں ہمارے کچھ جانے پہچانے راستوں میں ہماری منتظر ہیں، خواب اور رومان کا سفر دراصل اپنی جڑوں کی تلاش کا سفر ہے، امید اور یقین ہماری اپنی زمین اور مٹی کے رنگ رس کی کہانی ہے، علم و اخلاق اور جرات و غیرت ہمارے اپنے اسلاف کے نورانی ہیولے ہیں اور زندگی میں کچھ پانے کچھ کر دکھانے کو درکار طاقت دراصل ہمارے قرب و جوار کی طاقت ہے کہ جسے اکثر نادانی میں ہم بھول جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی صاحب کے کالم پڑھتے ہوئے حیرت کے اس فوری احساس کے ساتھ لکھت اپنی طرف کھینچتی ہے اور نکتہ نکتہ محویت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
یہ محویت کیا ہے؟ کیسے اترتی ہے، کیوں کر گھیر کرتی ہے اور لکھاری ایسا کیا اٹکل اپناتا ہے کہ پڑھنے والا مزاحمت کیے بغیر ڈھیر ہو جانا قبول کر لیتا ہے۔ افسانوی لکھت میں تو کہہ سکتے ہیں کہ کہانی پن اور اساطیر اور ڈرامائی بنت کا جادو چلا ہے اور شاعری میں شاعرانہ وسیلوں پر بات آتی ہے لیکن کالم جیسی سپاٹ صنف میں یہ کوملتا کیوں کر اترتی ہے یہ شاہد صدیقی صاحب کو خوب باور ہوا ہے۔ بات کہاں سے شروع کرنی ہے، کتنی کہنی اور کتنی بچا رکھنی ہے، بات کے اندر بات کیسے شامل کرنی، کب شامل کرنی ہے، کب گریز کا پتہ پھینک کر نئی جہت کی طرف مڑنا ہے اور کتنا دور چل کر لوٹنا یا آگے بڑھنا ہے؛ یہ سب کچھ کسی ماہر پروگرامر کی طرح وہ خوب جانتے ہیں۔ اور ایسے میں پڑھنے والے پر کم ہی کھلتا ہے کہ لکھاری نے اسے گھیر لیا ہے۔ پس محویت کے دائرے کھنچتے چلے جاتے ہیں اور یہیں وہ مرحلہ بھی آغاز ہو جاتا ہے کہ لکھاری اپنی من چاہے غلبے کے ساتھ قاری کو جذبے و احساس کی شدید لہروں کی طرف دھکیل لاتا ہے۔ خوشی، غمی، جوش، شکستگی، بھولپن، وارفتگی، اداسی اور یقین، امید، شکوہ اور وقار کی ہزار رنگ کیفیتیں پے در پے وارد ہوتی اپنا اثر دکھاتی چلی جاتی ہیں۔ یہیں کہیں وہ چاشنی کہ جس کی بدولت قاری، لکھت کی بھول بھلیوں میں کھویا ہوا اور حد درجہ محو رہ کر بھی تھکتا نہیں۔
یہ چاشنی کیا ہے؟ کدھر سے نزول کرتی کن زاویوں اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ لکھت کوئی سی بھی ہو، کیسی ہی تحیر آمیز و اسرار بھری، کیسی ہی دلچسپ و رومان پرور، لکھاری اسے خود پر طاری کیے بغیر لکھے تو ممکن ہے حیران و محو تو کرے مگر چاشنی سے عاری ہی رہے گی؛ بے رس، کھردری، کم ذائقہ سی، تھوڑی سی پڑھت کے بعد تھکن اتارتی ہوئی۔ پس یہ واضح ہے کہ چاشنی موضوع و تکنیک کے سوا کسی اور ہنر سے جڑی ہے اور وہ ہنر بہت قریب سے لکھاری کی شخصیت میں پیوست ہے۔ اسلوب اور شخصیت کے تانے بانے محض لفظوں کے برتنے کے میکانکی عمل کی بنا پر نہیں لکھت کے طاری ہونے اور بیتنے کی بنیاد پر اپنا مفہوم رکھتے ہیں اور اگر یہی مفہوم سامنے رکھ کر بات کی جائے تو شاہدصدیقی صاحب کی لکھت ان کی شخصیت کے سیاق میں زندگی بھری اور تروتازہ نظر آتی ہے۔ لفظوں لفظ یہ تازگی حاوی و طاری ہوتی جملوں اترتی اور لکھت میں وہ جادوئی رنگ رس بھر دیتی ہے کہ قاری پڑھتا چلا جاتا ہے، تھکتا نہیں۔ یہ چاشنی ہے، شخصیت کے نہاں خانوں سے جوش کرتی، لکھت میں برتے ہوئے لفظوں اور لفظ و معنی کی نو بہ نو ساختوں میں روح بن کر اتری ہوئی، جدا و ممتاز ۔
کالم نگاری عام طور عجلت کی اسیر سمجھی جاتی ہے۔ روا روی میں جاری موضوعات نپٹائے جاتے ہیں اور زیادہ تر خبر اساس جائزے اور تجزیے ہی بار پاتے ہیں۔ اقتدار کی غلام گردشوں کی سرگوشیاں، قیاس اور اندازے اور واہمے کالموں میں روز کے روز لپیٹے، پھیلائے جاتے ہیں اور ہر بیتتے دن کے ساتھ لکھت اور لکھاری پلٹیاں کھاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ان باوقار لکھاریوں کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے جو کالم نگاری کو پیشے کو طور پر نہیں بلکہ قومی فریضے کے طور اختیار کرتے، نہایت سنجیدگی، تفکر و تدبر اور بھرپور ذمے داری سے نبھاتے ہیں۔ اس میں بھی خوب و خوب تر کی تمیز بہرحال موجود ہے ۔ جناب ڈاکٹر شاہد صدیقی خوب تر کے زمرے کے سرخیل کالم نگار ہیں اور یہ کہنا بجا و برحق ہے کہ ان کے ہاں انتخاب موضوع و بنت و اسلوب کا جو طاقتور قرینہ اور ابلاغ لفظ و معنی کا جو منفرد سلیقہ بہم پہنچا ہے وہ معاصر کالم نگاری کی روایت میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ زیر آسماں کے ٹائٹل کے ساتھ ان کے کالم بلاشبہ آسمان، زیر آسمان ہیں۔ اپنے ٹائٹل کی طرح وسیع و بسیط، بے پناہ حیرتوں بھرے، دلکش و تروتازہ و تابناک۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, January 20, 2020

لودھراں، منیر نیازی اور پروین شاکر

لودھراں، منیر نیازی اور پروین شاکر

شاہد صدیقی
یہ80 کی دہائی کا آخر آخر تھا‘ دسمبر کا خنک مہینہ تھا جب مجھے تربیتِ اساتذہ کے ایک پروگرام میں بطورِ ریسورس پرسن ملتان جانا پڑا۔ اسی سال میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے تدریس انگریزی میں ڈگری لے کر واپس آیا تھا اور ہر نئے گریجویٹ کی طرح میرے اندر بھی ایک مثبت بے قراری تھی، کچھ کر گزرنے کی خواہش تھی۔ ملتان سردیوں کے دنوں میں کچھ معتدل ہو جاتا ہے۔ پروگرام کے شرکا وہیں کے اساتذہ تھے۔ پروگرام میں میرے دو سیشنز تھے‘ جو سہ پہر تک مکمل ہو گئے۔ یہ 1987 کا ملتان تھا۔ اس وقت زندگی کی رفتار اتنی تیز نہیں ہوئی تھی۔ مجھے اگلے روز شام کو واپس اسلام آباد جانا تھا۔ ایسے میں مبارک مجوکا نے کہا ''ایک آئیڈیا ہے ہو سکتا ہے آپ کو پسند آ جائے۔ مبارک مجوکا سے میرا پہلا تعارف لاہور میں ہوا تھا۔ وہ انگریزی ادب کا طالب علم تھا اور کتابوں کا رسیا۔ ہر دم متحرک رہنے والا مبارک مجوکا اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن یہ تب کی بات ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ وہ اپنے راستے میں آنے والے پہاڑوں کو بھی الٹا سکتا ہے۔ میں مجوکا کا آئیڈیا سننے کیلئے بے چین تھا۔ وہ بولا: آپ چاہیں تو ہم ایک شاندار مشاعرے میں شرکت کر سکتے ہیں‘ مشاعرہ یہاں سے تقریباً 70 کلومیٹر دور لودھراں میں ہے اور اس میں پاکستان کے ممتاز شاعر شرکت کر رہے ہیں۔ میری آنکھوں میں چمک دیکھ کر وہ بولا: تو پھر ٹھیک ہے ہم شیزان ہوٹل چلتے ہیں‘ وہیں لاہور سے آنے والے شاعروں سے ملاقات ہو گی‘ چائے پی کر اور کچھ دیر سستا کر وین میں لودھراں جائیں گے۔
شیزان ہوٹل کچہری کے پاس واقع تھا۔ اب اس کا نام بدل کر شیزا اِن کر دیا گیا ہے۔ اندر داخل ہوئے تو کئی شرکا پر نظر پڑی۔ اتفاق سے ہم جس میز پر بیٹھے معروف شاعر سلیم کوثر بھی وہیں بیٹھے تھے۔ ان سے ان کی مشہور غزل کے پس منظر پر بات ہوئی۔ بہت کم غزلیں ایسی ہوتی ہیں جن کا ہر شعر قبول عام حاصل کرتا ہے۔ سلیم کوثر کی یہ غزل بھی اسی صف میں آتی ہے جس کا مطلع تھا:
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
پھر اعلان ہوا کہ سب اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ جائیں۔ خوش قسمتی سے ہم اس وین میں تھے جس میں عطاالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد تھے۔ جہاں یہ دونوں اکٹھے ہوں تو لطیفوں اور باتوں کی پھلجھڑیاں چلتی رہتی ہیں۔ خوشونت سنگھ کی طرح اگر یہ دو حضرات لطائف شائع کرائیں تو کئی مجموعے بن سکتے ہیں۔ ملتان سے لودھراں کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا ہو گا۔ لودھراں قصبے کی ایک خاص اہمیت اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ اب تو لودھراں ضلع بن گیا ہے‘ اُن دنوں ملتان کے ضلع کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔ یہ دریائے ستلج کے شمال میں واقع ہے۔ ستلج پانچ دریائوں میں طویل ترین دریا ہے۔ اس وقت تک میری سرائیکی کے معروف شاعر رفعت عباس سے شناسائی نہیں ہوئی تھی ورنہ میں اس سے اس علاقے کے جغرافیائی‘ ثقافتی، لسانی اور معاشرتی حالات کے بارے میں ضرور دریافت کرتا کیونکہ یہ اس کا میدان ہے۔ پھر وہ مجھے بتاتا کہ لودھراں کا نام لودھراں کیوں ہے اور ستلج کو رگ وید میں ستادری کیوں کہتے ہیں۔ ڈیڑھ پونے دو گھنٹے کی مسافت کا پتہ ہی نہیں چلا اور اس کا سارا کریڈٹ عطاالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کو
جاتا ہے‘ جن کی دلچسپ گفتگو میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔
ایک بڑے پنڈال میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ مشاعرہ سول کلب لودھراں کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہا تھا جس کے صدر حفیظ خان تھے‘ جو اس وقت وہاں سول جج تعینات تھے۔ یہ وہی حفیظ خان ہیں جنہوں نے بعد میں ایک معروف ادیب، ناول نگار اور نقاد کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔ مبارک مجوکا ایک اچھے میزبان کی طرح ہر مرحلے میں میری مدد کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے پہلی قطار میں لے جا کر بیٹھا دیا۔ یہ لودھراں کی تاریخ کا پہلا کل پاکستان مشاعرہ تھا۔ یہ ہر لحاظ سے ایک شاندار مشاعرہ تھا جس کی نظامت کے فرائض پروین شاکر انجام دے رہی تھیں۔ اس وقت تک پروین کی صرف ایک کتاب 'خوشبو‘ منظر عام پر آئی تھی۔ یہ اردو غزل میں بالکل نیا لہجہ تھا۔ اس روز مشاعرے میں پروین نے اپنی مقبول غزل سنائی جس کا مطلع تھا:
کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
جب اس نے یہ شعر پڑھا تو نجانے مجھے کیوں لگا یہ اس کے ذاتی دکھ کی داستان ہے:
کیسے بتلائوں کہ وہ چھوڑ گیا ہے مجھ کو
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
یہ تین دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے مشاعرے میں منیر نیازی، سلیم کوثر، امجد اسلام امجد اور قاسمی نے مہمان شعرا کے طور پر شرکت کی تھی۔ مقامی شعرا نے بھی مشاعرے میں اپنا کلام سنا کر اور سن کر داد پائی تھی۔ تقریباً سات سال بعد جب مجھے پروین شاکر کی ایک حادثے میں اچانک موت کی اطلاع ملی تو میں پی ایچ ڈی کے سلسلے میں ٹورنٹو میں تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 42 سال تھی۔ اس کم عمری میں اس نے دنیاوی کامیابیوں کے بلند ترین زینے طے کر لیے تھے‘ لیکن ایک اداسی تھی جوہمہ وقت اس کے دامن گیر رہتی تھی اور اس کی آنکھوں سے جھلکتی تھی۔
منیر نیازی کی باری آنے تک رات بھیگ چکی تھی لیکن ہم سب ان کا کلام سننے کے منتظر تھے۔ اس روز منیر نیازی نے دو تین نظمیں سنائیں جس میں ''ہر مُکھ پر خوبصورتی کا مقام‘‘ ''اور ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں‘‘ بھی شامل تھیں۔ منیر نیازی کی شاعری کی پراسراریت اس کے شعر پڑھنے کے انداز سے دوچند ہو جاتی‘ وہ شعر پڑھتے پڑھتے بھول جاتا اور خلا میں کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھنا شروع کر دیتا۔
جب مشاعرہ ختم ہوا تو صبح کاذب کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ ہم ملتان پہنچے تو صبح ہو چکی تھی۔ اسی شام مجھے ملتان سے اسلام آباد آنا تھا۔ مقررہ وقت سے پہلے میں ائیرپورٹ پہنچ گیا۔ چیک ان کے بعد لائونج میں بیٹھ کر میں نے بیگ سے کتاب نکالی اور پڑھنے لگا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کوئی میرے سامنے والے صوفے پر آ کر بیٹھا۔ میں نے غیر ارادی طور پر نظر اٹھا کے دیکھا تو میرے سامنے منیر نیازی بیٹھ رہے تھے۔ انہوں نے مسکرا کر مجھے دیکھا۔ حوصلہ پا کر میں نے انہیں بتایا کہ میں ان کی شاعری کا رسیا ہوں اور نجانے کب سے ایک سوال لے کر گھوم رہا ہوں۔ منیر نیازی نے مسکراتے ہوئے کہا: کیا سوال ہے؟ میں نے کہا Walter de La Mare کی ایک نظم ہے: The Listeners‘ اس کی فضا بہت پُراسرار اور انوکھی ہے‘ پھر میں نے آپ کی ایک نظم پڑھی ''صدا بہ صحرا‘‘... یہ سن کر منیر نیازی نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: یہ نظم کچھ یوں ہے:
چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے، اور گھٹا گھنگھور
وہ کہتی ہے کون
میں کہتا ہوں میں
کھولو یہ بھاری دروازہ
مجھ کو اندر آنے دو
اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور
دونوں نظموں میں ایک خاص طرح کی مماثلت ہے۔ منیر نیازی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔ مجھے کہنے لگے: یار یہ سوال اشفاق احمد نے بھی مجھ سے پوچھا تھا‘ اب میں گھر جا کر دیکھتا ہوں یہ Walter de La Mare کون ہے۔ اس پر ہم دونوں ہنسنے لگے۔ آج اس بات کو گزرے تیس سال سے اوپر ہونے کو آئے ہیں اس دوران پروین شاکر اور منیر نیازی اجل کی وادی میں اتر گئے لیکن میں اب بھی تنہائی میں آنکھیں بند کروں تو ان کی آوازوں کو سن سکتا ہوں۔ اور پھر ان آوازوں کے ساتھ جڑے ہوئے وہ سارے منظر روشن ہو جاتے ہیں جنہیں بیتے ہوئے تین دہائیاں گزر گئیں۔

Saturday, January 11, 2020

اک دورتھا عجب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

اک دورتھا عجب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے   

شاہد صدیقی
اس دن صبح ہی سے ہلکی بارش کاسلسلہ جاری تھا ‘چھٹی کادن تھا اورمیں اپنے گھرکی سٹڈی میں کتابوں کی ترتیب درست کررہاتھا کہ فون پرڈاکٹر سلطانہ بخش کاپیغام موصول ہوا ''جاویدصاحب چلے گئے‘‘۔ میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بند کر دیا۔ مجھے وہ دن یاد آگئے جب جاویداقبال سیدصاحب‘ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ڈین سوشل سائنسز اورپھر وائس چانسلر تھے۔ لیکن میرے لیے جاویدصاحب کا عہدہ نہیں ان کی شخصیت سحرانگیز تھی‘ جسے عہدوں کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔ میںنے مین ڈورکھول کردیکھابارش کی پھوارجاری تھی‘ میں گاڑی میں بیٹھا اورجاویدصاحب کے گھرکی طرف روانہ ہوگیا۔ ونڈ سکرین پر بارش کی پھوار پڑ رہی تھی اور میرے دماغ میں بیتے دنوں کی فلم چل رہی تھی مجھے ان سے تین مہینے پہلے کی ملاقات یادآگئی جب میں ان سے ملنے گیا تھا۔ فریدہ بھابھی کی ناگہانی موت پر تعزیت کے لیے۔مجھے ان سے مل کر اندازہ ہوگیاتھا کہ جاویدصاحب اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔سعدیہ بیٹی چائے لے کرآگئی ‘جاوید صاحب اٹھے‘ شلف سے ایک لفافہ نکالا‘ اس لفافے میںفریدہ بھابھی کی تصویریں تھیں۔ پچاس سالہ محبت بھری رفاقت کی تصویریں۔ وہ مجھے ایک ایک تصویر دکھاتے اوراس کاپس منظر بیان کرتے رہے۔ میں جانے کے لیے اٹھا تو لنچ کے لیے اصرار کرنے لگے‘ پھریہ طے ہواکہ آئندہ ہم لنچ یاڈنر پراکٹھے ہوںگے۔ رخصت ہوتے ہوتے انہوںنے ہمیشہ کی طرح میرے ماتھے پربوسہ دیا۔ گاڑی کی ونڈسکرین پربارش کی تیز بوچھاڑ مجھے حال میںلے آئی ۔اچانک مجھے احساس ہوا میں خود بھی رورہاہوں۔ بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد میں ان کے گھر پہنچ گیاتھا۔ایک کمرے میں جاویدصاحب کابے حس وحرکت جسم تھا جس پرسفید رنگ کی چادرتھی۔ ہمیشہ مسکراتی ہوئی آنکھیں بند تھیں کمرے میں سعدیہ اوردوتین اورخواتین تھیں‘ میںنے جاوید صاحب کے چہرے پر نگاہ ڈالی جس پرزردی پھیلی تھی ‘میں نے جھک کران کے سرد ماتھے پربوسہ دیا اور کمرے سے باہرنکل آیا۔ گھر کے باہرسڑک خالی پڑی تھی۔ اب شام ہوچکی تھی‘ بارش کی وجہ سے وقت سے پہلے اندھیرا پھیل چکاتھا ‘میں اونچی نیچی سڑک پر بے مقصد چلنے لگا‘ اچانک میری نظر ریل کی پٹڑی پر پڑی جو جاوید صاحب کے گھر کے بالکل سامنے تھی۔مجھے یادآیا جاویدصاحب نے ایک بار گفتگو میں بتادیاتھا کہ ان کی پیدائش بلوچستان کے قصبے فورٹ سنڈیمن میں ہوئی۔ ان کے والد ریلوے میں گارڈتھے‘ ان کے گھر کے بالکل سامنے ریل کی پٹڑی تھی اوراس پٹڑی پرجب ریل گزرتی توگھر کے دروازے اورکھڑکیاں لرزاٹھتی تھیں۔ریل کی آواز میں جیسے کوئی جادو تھا‘ جسے سن کر ننھے جاوید کے دل میں ایک جوار بھاٹا اٹھتا اور وہ
ننگے پا ؤں گھر سے نکل آتا اور دیر تک ریل کے ڈبوں کو دیکھتا رہتا۔
جاوید صاحب بتایا کرتے کہ ابتدائی تعلیم کے بعد ان کے والدکاتبادلہ کوئٹہ ہوگیا جہاں دسویں جماعت کے بعدکالج میں پڑھائی کے ساتھ انہیں رات کے وقت محکمہ موسمیات میں نوکری مل گئی۔ یوں چھوٹی عمرمیں ہی مشقت کاسفر شروع ہوگیا۔ جاویدصاحب اوپن یونیورسٹی کے ابتدائی سالوںمیں ہی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے ۔ میں جب1983ء میں اس یونیورسٹی میں آیا تو اس وقت یونیورسٹی صرف چاربلاکس پرمشتمل تھی۔ میرا ڈپارٹمنٹ دوسرے بلاک میںتھا۔ اتفاق سے جاوید صاحب اسی بلاک میںتھے اور ہماری فیکلٹی کے ڈین تھے‘ لیکن ان کے ساتھ ہماری بے تکلفی تھی ۔بعدمیں جب وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن گئے‘ تب بھی ان کے اورہمارے درمیان کوئی فاصلہ نہ تھا۔ ان کی زندگی دلچسپ واقعات سے پُرتھی۔اکثر وہ ہمیں اپنی زندگی کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ تو مجھے اب بھی یاد ہیں ان میں ایک قصہ بلوچستان میں منگن ڈاکو سے ملاقات کاہے جس کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے اور راستے سرشام ویران ہوجاتے تھے ۔ اسی طرح ایک بار انہوںنے بتایا کہ کیسے کوئٹہ میں ایک لڑکا بہادرخان ان کی جان کے درپے ہوگیاتھا۔ ایک روزرات کے وقت اس نے دودوستوں کے ہمراہ انہیںگھیر لیا اورکھلے چاقو سے ان پر حملہ آور ہوا‘لیکن وہ پھرتی سے اس کاواربچاکر قریبی ہسپتال کی دیوار پھاند کردوسری طرف کود گئے تھے۔
جاویدصاحب اکثراپنے بچپن کے دوستوں کاتذکرہ کرتے جن میں خالد لطفی‘ حسیب‘ معیز اور شیخ ریاض کاذکرآتا‘لیکن خالد لطفی کاتذکرہ تقریباً ہرگفتگو میں ہوتا۔ بقول جاوید صاحب: لطفی ایک انتہائی ذہین اوربااعتماد لڑکاتھا۔وہ خوبصورت انگریزی بولتا تھا اورکسی بھی سچو ایشن کو کنٹرول کرسکتاتھا۔ لطفی کو لاہورکے فلیٹیز ہوٹل (Faletti's Hotel) میں ٹیلی فون ایکسچینج میں نوکری ملی تواس نے جاویدصاحب کو بھی بلالیا اورانہیں بھی وہیں نوکری دلادی۔ یہ جاویدصاحب کابلوچستان سے باہر پہلا قیام تھا۔ جو لوگFaletti's ہوٹل کی تاریخ سے باخبر ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں اہم شخصیات کاقیام رہتاتھا۔ ہالی وڈ کی معروف ایکٹریس ایواگارڈنر(Eva Gardner)نے بھی یہاں قیام کیاتھا‘ ایواگارڈنر جاویدصاحب کی پسندیدہ اداکارہ تھی۔پھر یوں ہوا کہ ایک دن اس ہوٹل میں تین مہمان آکرٹھہرے دوماں باپ اورتیسری ان کی بیٹی اس کانام سینڈرا ہیل(Sandra Hale)تھا۔ لیکن اس کی خوبصورتی کودیکھ کرہوٹل کاسٹاف اسے ایوا گارڈنرکہتاتھا۔ کبھی کبھی رات کوسینڈرا جاوید صاحب سے فون پر دیرتک باتیں کرتی رہتی۔ اس سارے معاملے کی لطفی کو خبر نہیں تھی‘ لیکن ایک روز سب کوپتہ چل گیا ۔جاویدصاحب کو نوکری سے فوری برخاست کردیاگیا۔لطفی کوپتہ چلا کہ جاویدصاحب کونوکری سے نکالاگیا ہے تواس نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ جاویدصاحب کووہ دن یاد تھے جب ان کا گھرریلو ے سٹیشن کے باہر ایک چارپائی تھا۔ اسی دوران ایک جیب کترے نے ان کا بٹوا اڑالیا۔ جاویدصاحب کواس چیز کاافسوس نہیں تھا کہ بٹوے میں پیسے تھے‘ انہیں تو صرف اس بات کارنج تھاکہ بٹوے میں سینڈرا کی ایک تصویربھی تھی‘ جواس نے انہیں دی تھی۔
انہوںنے مختصر عرصے کے لیے سینٹ پیٹرک اورحبیب پبلک سکول میں پڑھایا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہیں پرانہیں ریسرچ آفیسر کی جاب مل گئی۔ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب انہیں پاپولیشن پلاننگ میں ایگزیکٹو آفیسر کی جاب ملی۔ سینکڑوں امیدواروں میں سے دوکومنتخب کیاگیا تھا‘ ایک جاویدصاحب اوردوسرے فخرزمان‘ جوبعد میں پیپلزپارٹی کے سینیٹراوراکیڈمی آف لیٹرز کے سربراہ بھی رہے۔ انہیں یونیورسٹی آف شکاگومیں سوشیالوجی میں ڈگری حاصل کرنے کاموقع ملا۔ واپسی پر انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر جائن کرلیا۔ اس زمانے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کرارحسین تھے‘ جوجاوید صاحب کے آئیڈیل بن گئے۔
ان کی تعلیمی زندگی کا آخری پڑائو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی تھی‘ جس کی اُٹھان میں ان کااہم حصہ ہے۔یہ اوپن یونیورسٹی کا ابتدائی دور تھا۔ فاصلاتی نظامِ تعلیم عام لوگوں کے لیے ایک اجنبی اصطلاح تھی۔جاوید صاحب نے نہ صرف فاصلاتی نظامِ تعلیم کے لیے کتابی مواد تیار کیا بلکہ ریڈیو اور ٹی وی کے لیے بھی پروگرام کیے۔وہ انتہائی creative ذہن کے مالک تھے‘ انہیں طرح طرح کے اچھوتے خیالات سوجھتے اور پھر وہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے میں جُت جاتے۔ اب بھی یونیورسٹی جائیں تو جگہ جگہ ان کے تصور کی چھاپ ہے۔ جاویدصاحب ایک درویش صفت انسان تھے‘ وہ یونیورسٹی کے اساتذہ‘ مالیوں ‘ اور نائب قاصدوں سے گھل مل کررہتے تھے۔ ان کے ساتھ طویل رفاقت نے مجھے زندگی کاسب سے اہم سبق سکھایا تھا کہ اگر ہم اپنے رفقائے کار کوعزت دیں گے تو ہمیں جواب میں بھی عزت ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی سے جانے کے بعد بھی لوگ انہیں محبت سے یاد کرتے تھے۔
اچانک جاوید صاحب کے گھر کے سامنے پٹڑی پرریل کی پُرشور آواز سے میرے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ نجانے کتنی دیرسے میں ان کے گھر کے سامنے اونچی نیچی سڑک پر تنہا چل رہاہوں۔ جوںجوں ریل قریب آرہی ہے دروازوں اورکھڑکیوں کی لرزش بڑھ رہی ہے۔سب کچھ وہی ہے‘ لیکن وہ جس کے دل میں ریل کی آواز سُن کر ایک جوار بھاٹا اٹھتا تھا اور وہ ننگے پاؤں گھر سے نکل آتا تھا اور دیر تک ریل کے ڈبوں کو دیکھتا رہتا تھا‘ آج سفید چادر اوڑھے ہمیشہ کی نیند سو رہا تھا۔

Saturday, January 4, 2020

Joti: the kind light of Google


Joti: the kind light of Google
By
Shahid Siddiqui

Sometimes in life's journey, we meet people for a while, but the impact of their personality remains with us forever. I met Joti, without any planning, and that too for a short time but it seems that her shadow is still with me. It was probably 2015.  I was invited to San Jose University of the United States and the stimulus of the invitation was Professor Mark Adams. I had arrived in Islamabad from Abu Dhabi in three and a half hours, but the journey from Abu Dhabi to Los Angeles was about seventeen hours. Mark was there to pick me up at the airport. Mark was a tall person and had an evergreen smile on his face. While traveling from the airport to the hotel, Mark was driving the car and was also telling me the details of the surrounding scenery.

He described the city of San Jose as the political, economic and cultural center of California's famous Silicon Valley. Over the past few years, Silicon Valley had added to positive reputation of California. That evening, Mark and I sat in the chairs outside a roadside cafe. It was a holiday and people could be seen loitering on the red-brick street. After a while a musician started playing guitar on the sidewalk. People would stop for a moment in front of him, put some coins in his hat, placed on the ground and proceed. Then came the hot black coffee and Mark started telling me details about the Silicon Valley.  The next few days were spent meeting people in different departments of the University. One day I asked Mark: Is it possible that I could see Google's headquarters? Mark said: Sure. And the next day Mark and I were going to the Google headquarters. I had little idea then that during this trip I would be meeting a girl, Joti,
whom I will never be able to forget.

 It was a bright August day and we were on our way to Google headquarters in Mark's car. This complex of approximately 26 acres of Google buildings is called the Google Complex. It is a complete city in terms of its vast space and facilities. Here you would find several types of restaurants'. There is a volleyball ground, a gym, game rooms, a boxing hall and a Bowling Alley.  The facilities of laundry, showers, and nap pods are also available.  To move from one campus to another there are colorful bicycles parked on the bicycle stands in front of each building. All of these colors are from Google. You can take the bicycles from one building to another and leave them there. I had cycled after many years that day and thoroughly enjoyed myself. Mark suddenly stopped in front of a building. He said, “Here an alumnus of our University works. Mark had told her yesterday that we would be coming to Google headquarters and we would like to see her. Mark informed on the phone. Soon a girl came to the glass gate. In appearance, she looked like South Asian. Lean slim body, a smile on her lips and big beautiful eyes on her face.

The door opened and she came out to greet us. I was shocked. She had a white stick in her hand which was helping her find her way. Mark said softly, she can't see. What? I said with surprise. Mark pressed my hand. By that time, she had reached us. She introduced herself. Her name was Joti. Now she was moving forward to her office and we followed her. We reached the elevator where the office was located. Sitting around a table, Mark introduced me to her and said that I came from Pakistan. She smiled and said to me: Hope you have a good trip and hope you like our city. Mark said: Joti is a brave girl of our University. But I wanted to hear the story of Joti from her. Before I could express my desire, Joti stood up and asked us: Will you like to have tea or juice? Then I felt like as if the finger of her hands could see things. She picked a tray, put different juices and biscuits in it' and returned with the tray. I said to Joti: “Mark told me you were a brave student at the University' would you tell me something about yourself? Joti said smilingly: “Mark says all this for my encouragement. 'I am just an ordinary gir,l born in a normal home' My parents came here from India. I was studying in San Jose State University'. Everything was going normal. I had set three goals for myself. First that I have to complete my degree in four years'.  Second, that I will score a good GPA 'and third, that I will not work on weekends and save them to meet my friends and relatives. But then all of a sudden everything changed.  One day when I woke up in the morning things around me appeared foggy.
I thought it was temporary and would go away with the passage of time and everything would be all right. But it persisted. Over the weekend I went to my parents and wo took me to the doctor. The doctor advised an urgent surgery.  But even after surgery I was unable to see things around me. It was a difficult phase for me and for my family but my family supported me during this hard phase. My father said to me, "Believe in yourself.  You can still achieve your dreams.” I learned braille for 6 months. My teachers also supported me.  I graduated with a 3.8 GPA in Information Management. 

During this time, I had the opportunity to work temporarily at the University's Accessibility Center. After acquiring my degree, my father said, 'You write your job description yourself and send it to different companies. My brother gave my CV to someone at Google. It was a great day for me when I received an interview call from Google Headquarters. The interview was great. I mentioned that the experience I had qualifies me to work in the Accessibility field at Google. This kind of job wasn't in Google but I was selected and was told to work on my idea. It was way back in 2006 and now it has become a complete section here. Here I am the Program Manager and lead this section. I was listening to the story of this brave girl's struggle. I was looking at her face. A brave girl who had climbed a mountain of troubles and reached the place where many people dream of reaching. Joti’s story was so absorbing that we lost the track of time. And now suddenly we realized that we have been sitting there since long and it was time to leave now. I got up and asked this brave girl: Joti! Do you know what your name means? Seeing her silent, I said: Joti in Hindi means light. And you are the light that is illuminating the worlds of on so many people. She smiled upon hearing that, a smile reflecting satisfaction, gratitude, and pride. She came to the elevator to say goodbye to us. Then the door of the elevator closed and her face was hidden. It's been a while now, but it seems like yesterday. Sometimes in life's journey, we meet people for a while, but the impact of their personality remains with us forever. I met Joti, without any planning, and that too for a short time but it seems that her shadow is still with me.


Thursday, December 12, 2019

کٹاس راج اورآنسوئوں کاتالاب

کٹاس راج اورآنسوئوں کاتالاب

شاہد صدیقی
یہ کٹاس راج ہے۔اسلام آباد سے دو گھنٹے کی مسافت پر چکوال میں واقع ایک تاریخی مقام‘ جہاں ہزاروں سال پہلے کی تاریخ سانس لے رہی ہے۔ سطحِ سمندرسے تقریباً اڑھائی ہزار فٹ بلند ‘اس جگہ پربنے ہوئے مندر اور ان سے ملحق حویلیاں دورسے ہی نظرآجاتی ہیں۔
کبھی یہ جگہ علم و فن کا مرکز تھی۔یہاںایک قدیم یونیورسٹی تھی ‘جہاں اور علوم کے علاوہ سنسکرت کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔کہتے ہیں کہ مشہور مسلمان ماہرِ ارضیات ‘ ریاضی‘ تاریخ اور نجوم ابو ریحان البیرونی نے کٹاس راج میں واقع اسی یونیورسٹی میں سنسکرت کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ یہ البیرونی ہی تھا‘ جس نے کٹاس راج سے کچھ ہی دور پنڈ دادن خان کے مقام نندہ میں کئی سوسال پہلے زمین کے محیط اور قطر کی درست پیمائش کی تھی۔یہاں مندروں کے قریب ایک بدھ سٹوپا کے بھی آثار ہیں‘ جو بدھ پیروکاروں کی عقیدت کا مظہر اور بین المذاہب تعلق کا آئینہ دار ہے۔
کتنے ہی دیوانے تاریخ کے چھپے ہوئے خزانوں کی تلاش میں یہاں گھومتے رہے۔ انہیں میں ایک دیوانہ احمد حسن دانی تھا۔ وہی پروفیسر دانی‘ جس نے پاکستان کے دیگر علاقوں کے علاوہ کٹاس راج کے حوالے سے تحقیق کی۔ پروفیسردانی کے مطابق کٹاس راج کی ایک اہمیت یہ بھی تھی کہ یہاں ہندوؤں کے چار وید تحریر کئے گئے۔ کہتے ہیں‘ جب پانڈو برادران کو جلاوطن کیا گیا‘ تو انہوں نے یہیں پناہ لی اور اپنی جلاوطنی کے دن یہاں گزارے۔ میں کٹاس راج کے آسمان پر نگاہ ڈالتا ہوں اورسوچتا ہوں ‘یہی آسمان ہو گا‘ جس کے نیچے علمی محفلیں برپا ہوتی ہوں گی۔جہاں پہیلیاں بوجھنے کے مقابلے ہوتے ہوں گے۔ جہاں مختلف علوم کے مباحثے ہوتے ہوں گے۔ جہاں کی یونیورسٹی میں کتنے ہی طالبانِ علم کی پیاس بجھتی ہو گی۔ مجھے یوںلگا... کٹاس راج میں ہزاروں سال کی تاریخ سانس لے رہی ہے۔ شیومہاراج کی بارہ دری کے عین نیچے میں تالاب کی سیڑھیوں پر بیٹھا ‘ان سانسوں کومحسوس کررہاہوں ۔میں ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھتا ہوں۔ آسمان بادلوں سے بھرگیاہے اور تیزہوائوں کے چلنے سے یوں لگتا ہے کسی بھی وقت بارش شروع ہوجائے گی۔ نم ہوا میرے چہرے کوچھورہی ہے۔ میں آنکھیںبند کرکے صدیوں کاسفر طے کررہاہوں ۔روایت ہے کہ شیو کواپنی بیوی ستی سے بہت محبت تھی۔ دونوں کاایک دوسرے کے بغیرزندگی کاتصورمحال تھا۔ سچ ہے کہ زندگی میںمحبت کی چاشنی ہی اس کوخوبصورت بنادیتی ہے‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی کے سفرمیں مسافرملتے ہیں اوربچھڑ جاتے ہیں۔ ایک روز ستی بھی شیوکوچھوڑ کرہمیشہ کے لیے اجل کی وادی میں اترگئی‘ جہاں سے لوٹ کر کوئی کبھی واپس نہیں آتا۔ اس روز شیومہاراج پر انکشاف ہوا کہ زندگی ستی کے بغیر کتنی بے معنی‘ کتنی بے رنگ ہے۔ اس روز‘ وہ اپنی بے بسی پرٹوٹ کررویا۔اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی قطاریں موتیوں کی لڑیوں کی صورت بہہ رہی تھیں۔کہتے ہیں آنسوئوں کی ایک لڑی اجمیر کے قریب ایک مقام پر گری‘ جہاں ایک چشمہ بن گیا۔ آنسوئوں کی دوسری لڑی کٹاس راج کے مقام پر گری‘ جہاں ایک اور چشمہ بن گیا۔یہ آنسوئوں کاچشمہ بڑھتے بڑھتے ایک تالاب بن گیا۔ اس تالاب کا رقبہ دوکنال سے زیادہ اورگہرائی تیس فٹ کے قریب ہے ۔ تالاب کے اردگرد چھوٹے بڑے مندر ہیں۔ محبت جب عقیدت میں ڈھلتی ہے ‘تو فن کے شاہکار وجود میں آتے ہیں۔ ہمیں اس دعوے پر اعتبار آجاتا ہے‘ جب ہم ان مندروں کی طرزِتعمیراور ان میں بنے خوبصورت نقش ونگار کودیکھتے ہیں۔
وسیع وعریض کٹاس راج کے گیٹ سے داخل ہوں‘ تو ایک متاثرکن منظر نگاہوں کے سامنے آتاہے۔ قدیم راستوں پر چلتے ہوئے بائیں ہاتھ بلندی کی طرف جاتا ہوا راستہ ہے‘ جس پرست گراہ کابورڈ لگا ہے۔ یہاں سات مندروں کاجھرمٹ ہے۔شیو مہاراج کے مندر کی خوبصورت عمارت کی بالائی منزل پر دریچوں سے روشنی اورہوا آتی ہے اوریہاں سے اردگرد کے منظربھی دکھائی دیتے ہیں۔ تالاب کی سڑھیوں سے اوپر بارہ دری ہے۔ بارہ دری کے دروازوں سے تالاب اورتالاب کے اس طرف شیوکا مندر صاف دکھائی دیتاہے۔
تالاب کی سڑھیوں پر بیٹھا میںچشمِ تصور میں اس امرت کنڈ(مقدس پانی کے تالاب) کو لبالب بھرا دیکھتاہوں ‘جس پردھوپ کے آئینہ کا عکس تھرک رہاہے۔ پجاریوں کی بھیڑلگی ہوئی ہے۔ لوگ اپنے گناہوں سے چھٹکارے کے لیے تالاب کے پانی میں اشنان کر رہے ہیں ۔اس مقدس تالاب کاپانی ان کے لیے آبِ شفاہے ‘جسے پی کر وہ اپنے جسم و جاں کو سیراب کر رہے ہیں۔
اچانک بادل کی گرج مجھے حقیقت کی دنیامیں لے آتی ہے۔ تاریخ کا ہزاروں سال کا سفر اچانک ختم ہو جاتا ہے اور میں لمحۂ موجود میں آجاتا ہوں۔ میرے سامنے شیوکے آنسوئوں کاتالاب ہے‘لیکن یہ وہ تالاب نہیں‘ جو میری چشمِ تصور نے دیکھا تھا‘ جو کناروں سے چھلک رہا تھا‘ جس کے پانیوں میں پجاری پوتر ہو رہے تھے۔ یہ تو ایک اور ہی تالاب ہے‘جس کا پانی خشک ہوتے ہوتے پاتال سے جا لگا ہے۔ یہ منظر بہت ہی تکلیف دہ ہے۔
کٹاس راج کا تاریخی ورثہ‘ حکومتوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کٹاس راج کے اردگرد سیمنٹ فیکٹریوں سے زیرِزمین پانی بتدریج کم ہوتاگیا ۔مقامی لوگوں کی شکایت کے باوجود فیکٹریاں اسی طرح ماحول پراثرانداز ہورہی ہیں۔مقامی لوگوں اور سول سوسائٹی کا احتجاج صدا بہ صحرا ثابت ہوا۔ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان محترم ثاقب نثار صاحب نے اس انتہائی سنجیدہ صورتِ حال کا نوٹس لیا۔ محترم چیف جسٹس صاحب کی مسلسل کوششوں سے اب اس تالاب کوپانی دیاجارہاہے ‘لیکن یہ ان شفاف چشموں کاپانی نہیں ‘ جن میں شیوکے آنسوئوں کی مہک تھی ۔وہ چشمے‘ جنہیں سیمنٹ فیکٹریوں نے بانجھ کردیاہے‘ تالاب باہر سے لائے ہوئے پانی سے بھرتوجائے گا‘ لیکن اس میں وہ تاثیرکہاں سے آئے گی‘ جوآنسوئوں کے آبِ شفا میں تھی۔میں اپنے اردگرد گھومتے پھرتے لوگوں کودیکھتاہوں‘ جو مختلف عمارتوں کی‘ تالاب کی‘ گردوپیش کی تصویریں لے کروقت کوگرفتار کرنے کی معصوم خواہش کرتے ہیں‘ لیکن وقت توکبھی رکتا نہیں۔ انسان فانی ہیں‘ آتے اورچلے جاتے ہیں۔ وقت کا ہاتھ انسانوں کے علاوہ عمارات پربھی اثرانداز ہوتاہے‘ کٹاس راج کی عمارتوں میں خستگی کے آثار ہیں۔
اب بارش کی بوندیں آسمان سے اترنا شروع ہوگئی ہیں۔ میں تالاب کی سڑھیوں سے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اورایک بارپھرشیوکی بارہ دری چلاجاتا ہوں ‘جہاں میں بارش سے محفوظ ہوں‘ جہاں بارش کے نم جھونکے مجھے چھورہے ہیں‘ جہاں میں تالاب کے اُس طرف ان خوبصورت محرابوں‘ کھڑکیوں اوردریچوں کودیکھ رہا ہوں‘ بارش کی بوندوں میں سارامنظر اورحسین ہوگیاہے۔ میں بارہ دری سے نیچے اترتاہوں اور آبِ شفا والے راستے کے کنارے کنارے واپسی کے رستے پرچلنا شروع کردیتاہوں۔ گیٹ پرپہنچ کر‘میں پیچھے مڑکردیکھتاہوں ! کٹاس راج بارش میں چھپ گیا ہے ۔تیزبارش میں چلتے ہوئے دورپارکنگ میں کھڑی گاڑی تک پہنچتے پہنچتے میں ہانپنے لگتا ہوں۔میں سوچتا ہوں‘تاریخ کے آڑے ترچھے راستوں کاسفربھی کتنا تھکادینے والا سفر ہے۔