Shahid Siddiqui

Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Sunday, January 17, 2021

علی اکبر ناطق کا ناول " کماری والا"

 

علی اکبر ناطق  کا ناول " کماری والا"

شاہد صدیقی

علی اکبر ناطق اردو ادب کی اقلیم میں داخل ہوا   اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی  شہہ نشین تک جا پہنچا۔
اس کا ابتدائی تعارف اس کی شاعری اور افسانے تھے۔ دونوں اصناف میں اس نے اردو کے قارئین کو چونکا دیا تھا۔ اس کے اسلوب میں ایک تازگی اور نیا پن تھا۔اردو ادب کے نقاد حیران تھے کہ یہ نووار د کون ہے جس نے ان کی  ”سرپرستی“  کے بغیر شہرِ ادب کے مکینوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔

یہ  2014ء  کی بات ہے ان دنوں میں لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی لاہور سکول آف اکنامکس میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز کے ڈین کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ان دنوں ڈاکٹر سعیدالرحمٰن بھی میرا رفیقِ کار تھا جو انگلش ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتا تھا۔سعید ایک دلآویز شخصیت کا مالک ہے۔کتابوں کا رسیا اور دانش بھری گفتگو کا شناور۔

ایک روز میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ سعید کا فون آیا کیا آپ آ سکتے ہیں ایک مہمان آرہے ہیں آپ کو مِل کر خوشی ہوگی۔سعید کا آفس میرے دفتر سے کچھ فاصلے پر  Environmental Studies  کے شعبے میں تھا۔وہیں ناطق سے پہلی ملاقات ہوئی۔ انہیں دنوں اس کا ناول  ”نولکھی کوٹھی“   شائع ہوا تھا۔لیکن ابھی تک اس کی رونمائی نہیں ہوئی تھی۔اس روز ہم نے  ”نولکھی کوٹھی“  کی غیر رسمی رونمائی کی۔میں نے اپنے آفس سے پھولوں کا گلدستہ منگایااور ناطق کو اس کے پہلے ناول کی مبارک باد کے ساتھ پیش کیا۔شاید اس محفل میں ہمارے دوست ناصر مبارک بھی شریک تھے۔اس روز ناطق نے اپنی نظم  ”سفیرِ لیلیٰ“   سنائی جو  اپنے خیال، ٹریٹ منٹ اور امیجزکے حوالے سے اردو نظم کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔  2014ء  میں ہی میں میری تقرری  بطور وائس چانسلرعلامہ اقبال یونیورسٹی میں ہو گئی ۔یوں تو  میرے چار سالہ قیام کے دوران علامہ اقبال یونیورسٹی میں بے شمار سیمینارز، کانفرنسز،  اور لٹریچر کارنیوال  ہوئے۔لیکن  ان  سرگرمیوں کی ابتدا علی اکبر ناطق کے ناول  ”نولکھی کوٹھی“  کی تقریب رونمائی سے ہوئی یہ اس ناول کے حوالے سے پہلی اہم  تقریب تھی جس میں  حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔" نولکھی کوٹھی"   کی اشاعت سے پہلے ناطق کا تعارف ایک کہانی کار اور شاعر کا تھا۔لیکن  ”نولکھی کوٹھی“  کی اشاعت کے بعد اس کا نام معتبر ناول نگاروں میں شامل ہو گیا۔لیکن ناطق  کا  تخلیقی  وفور اب ایک اور سمت کی تلاش میں تھا۔اسلام آباد ہی کی بات  ہے۔ایک روز مجھے دعوت نامہ ملا کہ ناطق کی  اقبال کی شاعری کے حوالے سے  تنقید کی کتاب کی تقریبِ رونمائی ہو رہی ہے۔جس پر میں نے اظہارِ خیال کرنا ہے۔ اس روزہ پتہ چلا کہ ناطق نے تنقید کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا ہے وہ ایک یادگار تقریب تھی۔جس میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد  نے شریک تھی۔

جوں جوں ناطق اپنی کامیابیوں کے در کھولتا جا رہا تھا۔اسی رفتار سے  پیشہ ورنقادوں کے چوباروں کی کھڑکیاں اس پر بند ہوتی جارہی تھیں۔لیکن اس نے اپنا رشتہ براہِ راست اپنے قارئین سے جوڑ لیا تھا۔ ہاں چند بڑے   لکھنے والے ایسے تھے جنھوں نے اس کی تعریف میں کبھی بخل سے کام نہ لیااور دل کھول کر اسے دادِ سخن دی۔ ان میں سرِ فہرست شمس الرّحمٰن فاروقی،  آصف فرخی اور فہمیدہ ریاض کے نام شامل ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اتنی مختصر مدت میں ادب کی مختلف  اصناف میں لکھنا اور اس میں درجہئ کمال تک پہنچنا صرف علی اکبر ناطق کے حصے میں آیا ہے۔اس کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے نامساعد حالات کو پچھاڑ کر ادبی بیساکھیوں کا سہارا لیے بغیر اپنے زورِ قلم سے ادیبوں کی صفِ اوّل میں شامل ہو گیا۔

ناطق کی تازہ ترین تصنیف  ”کَماری والا“  ہے جسے  بکُ کارنر کے گگن شاہد اور امر شاہد نے  حسبِ روایت  بہت محبت اور دُلار سے شائع کیا ہے۔  "کماری والا " ایک ضخیم  ناول ہے جس کے موضوعات ہماری ارد گرد کی زندگی سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ موضوعات تو ایسے ہیں جن کا تذکرہ ہمارے معاشرے میں شجرِ ممنوعہ ہے۔موضوعات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں شدت پسندی،بیوروکریسی،مسنگ پرنسز،منشیات،استحصال،ٹارگٹ کلنگ،معاشی مسائل،فیکٹریوں میں مزدوروں کا استحصال،ذخیرہ اندوزی،محبت، ہوس،گروہی اختلافات،زمین کے جھگڑے،غربت،انتقام،  کرپشن،مقدمے،قتل،اور  فلمی دنیا اور این جی اوز کی  شامل ہیں۔

 "کماری والا" کی کہانی کا  Narrator  ضامن علی ہے۔جس کی عمر کہانی کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی  ہے۔یوں یہ کہانی کئی برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔کہانی کی  Narrative Technique  فلیش بیک کی ہے۔ناول کا پہلا باب دراصل کہانی کا کا آخر آخر ہے۔جہاں ناول کا مرکزی کردار ضامن  شاد بیگم  سے ملنے جا رہا ہے۔ ناول کا  Locale  پنجاب کے مختلف علاقے ہیں۔ہاں کچھ دنوں کے لیے ناول کا مرکزی کردار کراچی بھی جاتا ہے۔ناول کے کرداروں میں عد یلہ کا کردار اہم ہے جس کی ساری زندگی غموں،دکھوں اور آزمائشوں کی کہانی ہے جب وہ  پیدا ہوئی تو اس کی ماں درد سے تڑپتی ہوئی مر گئی تھی۔انیسہ کا کردار بھی عدیلہ کی طرح ایک مظلوم،بے بس، اور اُداس ماں کا ہے جس کے مقدر میں عمر بھر کا رونا ہے۔ناول کا مرکزی کردار  ”زینی“   ہے جو عمر میں ضامن سے بڑی ہے  اور جس کے سحر میں ضامن ایک عمر گرفتار رہتا ہے  پھر یہ سحر  زینی کی بیٹی شنرا کے  روپ میں ڈھل کر ضامن کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔متوازی چلنے والی کہانی تین بھائیوں احمد بخش،اللہ بخش اور صادق بخش اور ان کے بچوں کی ہے۔ یہ ہوسِ زر کی عبرت انگیز  داستان ہے جس میں اپنے ہی اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگتے ہیں۔

 "کماری والا" کی زبان سلیس اور پُر اثر ہے جس میں کہیں کہیں مقامی کرداروں کی پنجابی کا آہنگ بھی ہے۔تشبیہوں اور استعاروں میں تازگی اور امیجز کی تراش خراش ناطق کی تخلیقی صلاحیتوں کی دلیل ہے۔کہیں کہیں تو نثر اور شعر کی حدیں ایک دوسرے سے گلے ملتی نظر آتی ہیں۔”کَماری والا“  اپنے موضوع،زبان اور ٹریٹ منٹ کے حوالے سے ایک اہم ناول ہے جس میں وقت کی رو  اندر اور باہر کی دنیاؤں  کی کایا کلپ کرتی نظر آتی ہے۔گاؤں کا معصوم  لڑکا ”ضامن“  وقت کی لہروں میں  بہتا ہوا  اب  زمانے کے مختلف روپ دیکھ چکا ہے۔ وقت  کی یورش میں کیسے کیسے ہنستے کھیلتے کردار  ازل کی وادی میں اتر  گئے ہیں۔گاؤں کے ہرے بھرے درخت  جو پرندوں کی آماجگاہ  تھے ڈیولپمنٹ کی بھینٹ چڑھ   گئے ہیں۔یہ عروج سے زوال کا  عبرت  انگیز  سفر ہے۔ناول کی کہانی کا آغاز سربلند درختوں اور ہرے بھر ے کھیتوں سے ہوتا ہے اور اختتام پیپل کے ان زرد پتوں پر ہوتا ہے جن سے جواں مرگ  شنرا کی قبر ڈھک گئی  ہے۔لیکن اسی پیپل کی ایک شاخ پر کہیں سے اڑتی ہوئی سرمئی چڑیا آکر بیٹھ جاتی ہے جو اپنی آواز اور جاذبیت میں شنرا سے کم نہیں۔یہ چڑیا  دراصل  امید کا استعارہ ہے جس سے زندگی قائم  اور  جینے کی آرزو باقی ہے۔ امید اور رجائیت کا یہی استعارہ اس ناول کا پیغام ہے۔

Thursday, April 23, 2020

Tuesday, April 7, 2020

بلراج ساہنی اور پنڈی کی پرندوں والی سڑک

بلراج ساہنی اور پنڈی کی پرندوں والی سڑک

شاہد صدیقی
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ گورڈن کالج کے پچھلے گیٹ سے جب ہم کالج روڈ پر آتے تو ایک نئی دنیا ہمارا انتظار کر رہی ہوتی۔ یہاں پر زم زم ہوٹل، شبنم ہوٹل، قیصر ہوٹل اور لاہوری سموسے ہمارے ٹھکانے ہوتے۔ ذرا آگے چوک کی

Thursday, April 2, 2020

بھٹوصاحب: یہی بہار کے دن تھے کہ سرخ رُوہوئے ہم

بھٹوصاحب: یہی بہار کے دن تھے کہ سرخ رُوہوئے ہم

شاہد صدیقی
یہ گڑھی خدابخش ہے‘ سندھ کے شہر لاڑکانہ سے 23 کلو میٹردور ایک خاموش قصبہ۔ یہیں بھٹو خاندان کاآبائی قبرستان ہے۔ یہ1969کے جون کا گرم خُومہینہ ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹواپنی بیٹی بے نظیر کے ہمراہ اپنے بزرگوں کی قبروں پرفاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ دہکتے ہوئے سورج کے نیچے قبروں کا سکوت ہے۔ اچانک باپ نے بیٹی کی طرف دیکھا اورکہا" تم بہت دور امریکہ جا رہی ہو۔ تم بہت سی ایس چیزوں کو دیکھو گی جو تمہیں حیران کریں گی ۔ تم بہت سی ایسی جگہوں کا سفر کرو گی جن کا کبھی نام بھی نہیں سنا ہو گا لیکن یاد رکھو آخر کار تمہیں یہیں لوٹنا ہو گا"۔