Shahid Siddiqui

Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Monday, September 16, 2019

طارق ملک: اے اہلِ زمانہ قدرکرو

طارق ملک: اے اہلِ زمانہ قدرکرو


یہ کالم دسمبر 2018 میں لکھا گیا تھا۔ ٓاج 17ستمبر2019  عدالت نے طارق ملک کے خلاف کیس خارج کر دیا ہے۔ 
بعض دفعہ کوئی تصویر ‘کوئی خبر تصور کے پٹ کھول کرہمیں گم کردہ دنیائوں میں لے جاتی ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ سوشل میڈیا پر ایک خبر تھی ـ :''سابق چیئرمین نادرا طارق ملک کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ‘‘۔ وہی طارق ملک‘ جس نے پاکستان کے نادرا کو دنیا کا ایک مثالی ادارہ بنا دیا تھا اور جسے ایمانداری کے صلے میں ملک بدر کردیا گیا تھا۔ 
اب پانچ سال بعد وہ وطن واپس آرہا تھا ‘جہاں ماضی کے حکمرانوں نے اس کا نام ایگزٹ لسٹ میں ڈال دیا تھا ۔طارق ملک کی خبر مجھے اپنی گم کردہ دنیامیں لے گئی۔ یہ1986ء کا سال تھاجب میں انگریزی میںماسٹرز کے لیے یونیورسٹی آف مانچسٹر گیا؛اگر آپ کبھی مانچسٹر گئے ہوں توآپ کوعلم ہوگا کہ یہ بارشوں کاشہرہے۔ جہاں اکثر آسمان پر بادل چھائے رہتے ہیں اور تقریباً ہرروز بارش ہوتی ہے۔ مجھے یونیورسٹی کے ہاسٹلMoberly Towerمیں جگہ ملی۔ اس کی قریباً پندرہ منزلیں تھیں۔ وہیں میری ملاقات ایک پاکستانی طالبعلم امیرعبداللہ چشتی سے ہوئی تھی۔

Saturday, September 14, 2019

زندگی کی بساط

زندگی کی بساط

زندگی کیا ہے؟ہم کہاں سے آتے ہیں؟ کہاں چلے جاتے ہیں؟ زندگی میں قسمت کا کیا کردار ہے؟ اتفاقات کی کیا اہمیت ہے؟ بعض اوقات ہماری زندگی کے اپنے تجربات ان سوالوں کا جواب فراہم کرتے ہیں۔ جب میں گورڈن کالج میں سجاد شیخ صاحب کی کلاس میں پڑھتا تھا تو یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں اور لفظ' قسمت‘ شکست خوردہ ذہنوں کی پیداوار ہے‘ لیکن آہستہ آہستہ عملی زندگی میں مجھے احساس ہونے لگا کہ محنت اور قابلیت کے ساتھ ہماری کامیابی میں ایک کردار قسمت کا ہوتاہے ۔پھر زندگی کے مشاہدے اور تجربے کی آنچ نے مثالی تصورات کے آئس برگ کو پگھلانا شروع کیا۔اس دوران میں ایم اے کی ڈگری کیلئے برٹش کونسل کے سکالر شپ پر مانچسٹر یونیورسٹی چلا گیا‘جہاں میری ملاقات یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سوشیالوجی کے پروفیسر راج سے ہوئی

Thursday, September 5, 2019

شہیدوں کاچمنستان

شہیدوں کاچمنستان

شاہد صدیقی
یہ شہیدوں کاچمنستان ہے‘ جہاں حدِ نظرتک سرخ پھولوں کی قطاریں ہیں۔ خوش رنگ‘ تروتازہ ‘ مہکتے ہوئے پھول ۔کہتے ہیں: شہید مرتے نہیں‘ امرہوجاتے ہیں۔آج اس چمنستان میں آکراورلہلہاتے پھولوں کو دیکھ کرمجھے ایساہی لگا۔ سرخ رنگ کے پھول ان شہیدوں کی یاد دلا رہے تھے‘ جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنے لہو سے سینچا ۔وہ جوآزادی کے حُسن کے اسیرتھے اورجنہوں نے آزادوطن کے لیے اپنے جسموں کا چاندی سونا اور اپنے چہروںکے نیلم اور مرجان لٹا دیے۔

Wednesday, September 4, 2019

ایک دفعہ کا ذکر ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے

شاہد صدیقی
اب تو یہ سب کچھ ایک خواب لگتا ہے۔ایک ایسا خوش رنگ خواب جو ہم نے کسی اور جنم میں دیکھا تھا اور جس میں باہم تا دیر جئے تھے یا پھرکوئی دل آویز کہانی جسے سنتے سنتے ہمیں نیند آگئی تھی۔یہ ان دنوں کی بات ہے‘ جب ہم گاؤں میں رہتے تھے۔ گاؤں کے تہوار بھی وہاں کی زندگی کی طرح سادہ تھے۔ گاؤں میں رمضان کے وہ دن مجھے آج بھی یاد ہیں‘ جب گرمیوں کے روزے ہوا کرتے تھے۔سحری کے وقت پراٹھا اور رات کا سالن ہوتا تھا۔ لوگ روزہ رکھ کر چلچلاتی دھوپ میں کھیتوں میں کام کرتے تھے‘ گھروں میں اے سی اورپنکھوں کا تصور نہیں تھا‘ کیونکہ اس وقت تک ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں آئی تھی ۔ مغرب سے ذرا پہلے مسجد میں نمازی آنا شروع ہو جاتے اور افطاری کے وقت کا اعلان

Monday, September 2, 2019

جب زبان ہمیں تقسیم کرتی ہے

جب زبان ہمیں تقسیم کرتی ہے

شاہد صدیقی
پاکستانی نظام تعلیم کا سب سے سنگین    تعلیمی عصبیت یعنی
  ہے (Educational Apartheid)
  امیروں اور غریبوں کے بچوں کی تعلیم میں ایک واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ زبان اس تقسیم میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔پچھلے کئی عشروں سے نیو لبرل ماڈل ہمارے تعلیمی نظام میں رچ بس گیا ہے اور اب امیروں اور مڈل کلاس کے بچوں کے تعلیمی اداروں میں ایک وسیع خلیج حائل ہو گئی ہے ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ تعلیم‘ جس کا بنیادی مقصد ہی معاشرے میں معاشرتی اور معاشی امتیازات کو کم کرنا ہے‘ ان امتیازات کو مزید تقویت د ے  اب  سرکاری سکول اپنی کشش کھو بیٹھے ہیں۔
والدین اب اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولز میں بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور وجوہات کے علاوہ اس کی ایک اہم وجہ انگریزی زبان ہے۔ والدین انگریزی زبان کو معیار کا پیمانہ سمجھتے ہیں‘ انگریزی زبان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے گلی محلوں میں غیر معیاری سکول بھی وجود میں آ گئے ہیں جوانگلش میڈیم کا بورڈ لگا کر اپنے معیاری ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔والدین انگریزی کو ہی کیوں اچھے سکولوں کی علامت سمجھتے ہیں ؟ اردو میڈیم سکولوں سے بے اعتنائی کی وجہ کیا ہے ؟ اس بظاہر سادہ سوال کا جواب اتنا آسان نہیں۔ اس کے لیے ہمیں زبان سے جڑے کچھ اور سوالوں کا جواب بھی تلاش کر نا ہو گا۔