Shahid Siddiqui

Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Tuesday, August 20, 2019

ہڑپہ: یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

نقاہت اور بلا کا حسن ار آنکھوں کی

ہڑپہ: یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

شاہد صدیقی
اُس روز دُور دُور تک اُجلی دھوپ کا بسیرا تھا اور ہوا میں ہلکی خنکی کی آمیزش۔ میری منزل ساہیوال سے 27 کلومیٹر دور ہڑپہ تھی۔ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح اس تہذیب کا آغاز ہوا تھا۔ پرانی جگہوں پہ جانے کا بھی اپنا رومانس ہے۔ کبھی کبھی ان خرابوں میں خزانے مِل جاتے ہیں۔ ساہیوال سے ہڑپہ کے راستے میں ایک نوجوان بھی میرے ہمراہ ہو لیا، اس نے بتایا کہ وہ ہڑپہ کا باسی ہے۔ وہیں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اس نے اپنا نام ناصر بتایا۔ کھنڈرات کے حوالے سے اس کے پاس کافی معلومات تھیں‘ یوں ہڑپہ تک کا سفر بخوبی کٹ گیا۔ میوزیم کے کیوریٹر حسن کو ہماری آمد کی اطلاح تھی۔ حسن کئی سال سے میوزیم میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔

Thursday, August 15, 2019

کشمیر: ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے

کشمیر: ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے

شاہد صدیقی
یہ ایک تصویر ہے۔ ایک کشمیری نوجوان کی تصویر ۔ یقیناً سوشل میڈیا پر آپ نے بھی دیکھی ہو گی۔ میں نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کے دل میں حریت کا چراغ جلتا تھا۔ وہ سری نگر میں اپنے گھر سے نکلا تو اس کے ہاتھ میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھا۔ اسے معلوم تھا کہ شہر میں کرفیو ہے‘ ہر طرف بھارتی فوجی گشت کر رہے ہیں لیکن اس کی نگاہوں میں آزادی کے خواب تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے بازار میں نکل آیا جہاں بھارتی فوجی گشت کر رہے تھے۔ اس نے 'کشمیر بنے گا پاکستان‘ کا فلک شگاف نعرہ لگایا۔ اسی لمحے بھارتی فوجیوں نے اپنی بندوقیں سیدھی کیں اور چشمِ زدن میں کئی گولیاں اس کے بدن میں پیوست ہو گئیں۔

Wednesday, August 14, 2019

موہنجو داڑو: فاصلوں کی کمند سے آزاد

موہنجو داڑو: فاصلوں کی کمند سے آزاد

شاہد صدیقی
تصور کا طلسم بھی کیسا طلسم ہے؟ پلک جھپکنے میں دوریاں سمٹتی اورفاصلے تحلیل ہوجاتے ہیں اور پھرتصور کی آنکھ ہمیں من چاہے منظر دکھاتی ہے۔ آج موہنجوداڑو کے آڑھے ترچھے راستوں پر چلتے ہوئے میری آنکھوں میں کتنے ہی منظرروشن ہوگئے۔ بازار میں کاروبار‘ گاہکوں کا شور ‘ شطرنج کی بازی‘ موسیقی کی محفلیںاور کھیتوں میں لہلاتی فصلیں۔ وہ دسمبر کی ایک صبح تھی اورمیں موہنجوداڑو کے گلی کوچوں میں گھوم رہاتھا۔ سردیوں کے دن مختصرہوتے ہیں ‘پتا ہی نہیں چلتا کہ کب دن چڑھا اورکب شام ہوگئی‘ لیکن سردیوں کی دھوپ بہت قیمتی ہوتی ہے‘ شایدکوئی بھی چیز جب نایاب ہوتی ہے قیمتی بن جاتی ہے۔ یہ بھی دسمبر کا ایک دن تھا اورمیں250قبل مسیح کی تاریخ کی انگلی پکڑکر چل رہاتھا اورحیرت میرے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ کیساشہرہوگا اورکیسے لوگ‘ کبھی زندگی ان گلیوں میں ہنستی مسکراتی ہوگی اوراب ہرطرف ایک خاموشی ہے اور ہُوکاعالم۔ ہاں کبھی کبھی یہاں وہاں چند سیاح نظر آجاتے ہیں ‘جن میں کچھ غیرملکی بھی ہوتے ہیں‘

Sunday, August 11, 2019

اب میں اسے یاد بنا دینا چاہتا ہوں



اب میں اسے یاد بنا دینا چاہتا ہوں

منیر نیازی 

میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا ہوں
مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا
میں اس کی باتوں کو سنتا رہتا ہوں
مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا
اب اگر وہ مجھ سے ملے
تو میں اس سے بات نہیں کروں گا
اس کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں
میں کو شش کروں گا
میرا دل کہیں اور مبتلا ہو جائے
اب میں اسے یاد بنا دینا چاہتا ہوں

Wednesday, August 7, 2019

کنور مہندر سنگھ بیدی، زندگی کے میلے اور محبت کا جادُو

کنور مہندر سنگھ بیدی، زندگی کے میلے اور محبت کا جادُو

شاہد صدیقی
حدِ نظر تک سبز لان کی وسعتیں اور جابجا رنگارنگ سٹالز۔ ایک میلے کا سامنظر۔ میں ان دنوں برٹش کونسل کے سکالرشپ پر یونیورسٹی آف مانچسٹر میں پڑھ رہا تھا اور یونیورسٹی آف لنکاسٹر ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ مختلف سیشنز کے درمیان وقفے میں کانفرنس کے شرکا کتابوں کے اس میلے میں گھومتے رہتے۔ اسی میلے میں میری ملاقات اُرملا سے ہوئی۔ شاید یہی نام تھا اس کا یا شاید اس سے ملتاجلتا کوئی نام۔ باتوں باتوں میں اس نے بتایا اُس کا تعلق اردو کے معروف ادیب اور شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی کے خاندان سے ہے۔ میں نے کہا ''واقعی؟‘‘۔ وہ بولی: کیا آپ ان کے نام سے واقف ہیں؟ میں نے اسے بتایا کہ اردو ادب سے محبت کرنے والا ہرشخص ان کے نام سے واقف ہے۔ اس کی آنکھوں میں تفاخرکی ایک کرن جگمائی‘ پھر وہ اداس لہجے میں بولی: کاش میں اردو پڑھنا جانتی اور ان کی تحریروں کو پڑھ سکتی۔ یہ میری اس سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔