Education, Development, and Change
Email Dr. Shahid Siddiqui

Saturday, June 15, 2019

آج تم یاد بے حساب آئے


زیرِ آسمان

آج تم یاد بے حساب آئے

شاہد صدیقی
میرے سرپرتاروں بھراآسمان ہے‘ آسمان پر چمکتے ستاروں میں ایک ستارہ سب سے روشن ہے‘یہ ستارہ مجھے بہت کچھ یاددلارہاہے۔گائوں کی وہ چاند بھری راتیں! جب ہم بچے لکن مٹھی کاکھیل کھیلتے تھے‘ جب میری ساری کائنات میرے ماں باپ‘ بہن بھائی اور دوستوں تک محدود تھی۔ میری اس کائنات کامرکز میرے والد صاحب تھے۔میں آنکھیں بندکرکے ان دنوں کاتصور کروں‘تو ان کاشفیق اورروشن چہرے سامنے آتا ہے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے کبھی ہماری پٹائی کی ہو یاکبھی خفاہوئے ہوں ‘وہ ہم بچوں کوبھی تم کی بجائے آپ کہہ کر بلاتے۔
انہوں نے مالی وسائل کی کمی اپنی محبت اورشفقت سے پوری کی تھی
والد صا حب کو مطالعے کا جنون تھااوران کااپناکتب خانہ تھا ان کے کتب خانے میں زیادہ تر مذہبی کتابیں تھیں۔ان میں بہت سی کتابوں کی  جلدسازی بھی انہوںنے خود ہی کی تھی

والدصاحب کو مطالعے کا جنون تھااوران کااپناکتب خانہ تھا۔ ان کے کتب خانے میں زیادہ تر مذہبی کتابیں تھیں۔ان میں بہت سی کتابوں کی جلدسازی بھی انہوںنے خود ہی کی تھی۔ایک دفعہ کاذکر ہے کہ مجھے خیال آیا‘ والدصاحب سے کہوں: میری سکول کی کتابوںکی بائنڈنگ کردیں۔اس وقت رات ہورہی تھی‘ گائوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے یوں لگتا تھا‘ رات جلدی شروع ہوجاتی ہے۔والدصاحب نے کہا: اب تو رات ہورہی ہے‘ کیوں نہ یہ کام کل کرلیں۔ میں راضی ہوگیا۔ اگلے روزجاگا‘ تووالدہ نے بتایا والد صاحب کو دوسرے گائوں جاناتھا اوروہ روانہ ہوگئے ہیں۔مجھے سمت کا اندازہ تھا۔ میںننگے پائوں گائوں کی آڑھی ترچھی گلیوں میں سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہاتھا‘ اچانک دور‘ بہت دور ایک انسانی ہیولا دکھائی دیامیں اورتیز بھاگنے لگا ۔ فاصلہ کم ہونے پرمجھے یقین ہوگیا ‘وہ والدصاحب ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اجلا سفید لباس ‘سرپرپگڑی ‘ اورپائوں میں شان موچی کے بنے ہوئے کھسے۔ قریب پہنچ کر میں نے زورزورسے انہیںآوازیں دینا شروع کردیں۔آواز سن کر وہ رک گئے ‘ مڑے اورمجھے دیکھا۔ان کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ میں ان سے لپٹ گیااورناراض لہجے میں کہا: آپ نے تو وعدہ کیا تھا۔ انہوںنے جھک کر میرے چہرے کواپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اوربولے اوہ! میں بھول گیاتھا۔چلو واپس چلتے ہیں۔ یوں ہم دونوں واپس گھر آگئے اورانہوںنے میری کتابوں کی بائنڈنگ کرکے اپنا وعدہ پورا کردیا۔
والدصاحب عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادرالکلام شاعر بھی تھے۔شعرکہنے کے لیے انہیں زیادہ کوشش نہ کرنا پڑتی۔ فارسی‘ اُردو اورپنجابی میں وہ یکساں سہولت کے ساتھ شعر کہتے تھے۔پاکستان سے انہیں جنون کی حد تک محبت تھی‘ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ذہن میں قیامِ پاکستان کے وہ منظرتازہ تھے۔جب ہزاروں مسلمانوں نے اپنے نئے وطن کے لیے اپنے گھربار چھوڑے اوراپنی جان اورمال کی قربانی دی۔یہی وجہ ہے جب1965ء کی جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی‘ تو پوری قوم یک جان ہوکر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہوگئی۔ادیبوں اورشاعروں نے اپنے ولولہ انگیز گیتوں اورملی نغموں سے اپنے جوانوں کے حوصلے بڑھائے۔ اگلے مورچوں تک جب ان گیتوں کی آواز پہنچتی‘ توجذبوںکو اور مہمیز ملتی۔ 1965ء کی جنگ کہ وہ سترہ دن ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں‘ جب ہم نے ایک قوم بن کر اپنے سے کئی گنابڑے دشمن کے حملے کا کامیاب دفاع کیا۔اس جنگ کے دوران جو نغمے تخلیق کئے گئے ‘وہ بعد میں ایک کتاب''جاگ رہا ہے پاکستان‘‘ میں شائع ہوئے‘ اس کتاب میں والد صاحب کالکھا ہوا نغمہ بھی شامل تھا جوانہوں نے پاکستانی ہوابازوں کے حوالے سے لکھا تھا۔
والدصاحب کوفارسی‘ عربی‘ اُردو ‘ پنجابی کے بہت سے شعرا کا کلام ازبرتھا۔ہمیں کسی بھی مشکل لفظ کامعنی پوچھنا ہوتو ڈکشنری کی بجائے ان سے پوچھتے اورہمیں کبھی مایوسی نہ ہوتی ان کی اپنی پسندیدہ لغت''عزیز الغات‘‘ تھی۔والدصاحب کو خطاطی کاشوق تھا‘ جوانہیں لاہورلے گیا‘ جہاں اس وقت خطِ نستعلیق کے موجد عبدالمجید پرویں رقم اپنی کتابت کے جوہر دکھارہے تھے۔وہی پرویں رقم‘ جنہوںنے علامہ اقبال کی کتابوں کی کتابت کی۔کہتے ہیں ایک دفعہ پرویںرقم نے کتابت ترک کرنے کااعلان کردیا۔یہ خبرعلامہ اقبالؔ تک پہنچی‘ تو انہوںنے پرویں رقم سے کہا:اگرآپ کتابت چھوڑیں گے‘ تومیں شاعری چھوڑ دوںگا۔یوں پرویں رقم نے کتابت چھوڑنے کا ارادہ ترک کردیا۔والدصاحب بتاتے ہیں کہ ایک بار پرویں رقم نے ایک کتاب کے پروف دکھانے کے لیے مجھے علامہ اقبال کے پاس بھیجا ۔علامہ اقبال ایک دھوتی اوربنیان میں ملبوس ایک تکیے کے سہارے نیم دراز تھے اوران کے سامنے حقہ رکھاتھا۔ والد صاحب اکثر ہمارے ساتھ اس یاد گار منظر کا ذکر کرتے اورہمیںزندگی میں سادگی کی تلقین کرتے۔ 
ایک اورمنظر بھی والد صاحب کی یادوںکی البم میں ہمیشہ روشن رہا۔وہ بڑے فخر سے بتایا کرتے کہ ایک بارا نہوںنے قائداعظم کی تقریرسنی تھی ۔ لوگوں کاایک اژدھام تھا‘ جواپنے محبوب قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے امڈا آیاتھا۔ والدصاحب بتاتے ہیں کہ انہوںنے وہ تقریر ایک درخت پر چڑھ کرسنی‘ وہ یہ واقعہ اکثر ہم بچوں کو سنایاکرتے اوربتاتے کہ ایک لیڈر کابنیادی وصف اس کااخلاص ہوتاہے۔ قائداعظم کا لباس ‘زبان‘ رہن سہن کا طریقہ عام لوگوں سے مختلف تھا‘ لیکن ایک عام آدمی کا بھی ایمان تھا کہ ان کاقائد اپنے مشن کے ساتھ مخلص ہے اورکوئی ترغیب اورتحریص انہیں اپنے راستے سے نہیںہٹا سکتی۔
پرویں رقم سے فنِ کتابت سیکھنے کے بعد والدصاحب نے خودبھی کئی کتابوں کی کتابت کی۔ ہمارے گائوں کی مسجد کی تزئین کاسارا کام والدصاحب نے خود کیا۔ خوبصورت گل بوٹے اورڈیزائین‘ رنگوں کاحسین امتزاج۔ اس سارے کام میں سب سے متاثر کن کام مسجد کے مستطیل چھت پر سورۃ یاسین کی کتابت تھی۔ ہم حیران ہوتے کیسے سورۃ یاسین کاآغاز ہوکراختتام اسی نقطے کے قریب ہو رہاہے‘ یہ سارا کام انہوں نے لکڑی کے ایک معلق تختے پرلیٹ کرکیا۔والدصاحب پانچ وقت کے نمازی تھے مجھے یادنہیں انہوںنے کبھی تہجد کی نماز نہ پڑھی ہو‘کبھی کبھاررات کورونے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی تو میں ڈرجاتا۔ دیکھتا تو رات کی تاریکی میں والدصاحب جائے نماز پربیٹھے ہیں اورروتے ہوئے ان کی گھگھی بندھ گئی ہے۔انہیں اس طرح بچوں کی طرح روتے دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی کیوں کہ وہ عام زندگی میں ہمیشہ ہنستے کھیلتے رہتے۔ان کی طبیعت میں ظرافت کاپہلو غالب تھا۔ان کے ساتھ ہماری بے تکلفی تھی‘ ان کے سمجھانے کاانداز جداتھا‘ کبھی سختی نہ کرتے ‘یوں ان کے حصے کاکام بھی والدہ کوکرنا پڑتا‘ اس وقت ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ چلے جائیںگے‘ توہماری زندگیوں میں کتناخلا آجائے گا۔ خلیل جبران نے سچ کہاہے کہ محبت کی گہرائی کااندازہ جدائی کے بعد ہوتا ہے۔ مجھے منیرنیازی کی نظم یادآرہی ہے جوانہوںنے اپنے والد کی یادمیں لکھی تھی۔ لگتا ہے کہ وہ میرے جذبات کی ترجمان ہے۔
وسیع میدانوں میں/جہاں سے کئی نہیں گزرتا/وہ وہاں موجود ہے/میں جن راستوں پر/کسی خوف سے نہیں جاسکتا/وہ وہاں موجود ہے/میں نے جن مکانوں میں/زندگی کے اچھے یابُرے دن کاٹے ہیں/وہ وہاں موجودہے/غیب میںجوباغات ہیں/ابررحمت جن پرپھوار کی طرح برستا ہے/وہ وہاں موجود ہیـ
کہتے ہیں ماں باپ کارشتہ اُن کے چلے جانے سے ٹوٹ نہیں جاتا۔وہ اس دنیائے فانی سے جانے کے بعد بھی ہم سے وابستہ رہتے ہیں۔ ہماری پریشانیوں میں ہمارے لیے دعاگورہتے ہیں۔ہماری کامیابیوں پرخوش ہوتے ہیں‘ ان کی آنکھیں ہمیشہ ہماری نگراں رہتی ہیں۔وہ ہمارے فیصلوں میں غیرمحسوس طریقے سے ہماری مددکرتے  
 ہیں۔مجھے ڈزنی پکچرز کی فلم


           یادآرہی ہے‘ جس میں جنگل The Lion King 
کے
بادشاہ شیر مفاساکابیٹاننھا شیر سیمبا اپنے والد سے پوچھتا ہے: کیاہم ہمیشہ اکٹھے  رہیںگے‘ کیا آپ ہمیشہ میری رہنمائی کے لیے موجود رہیںگے۔مفاسااپنے بیٹے سیمباکوتسلی دیتے ہوئے کہتاہے :سیمبا میں آج تمہیں وہ بات بتاتا ہوں‘ جومیرے والد نے مجھے بتائی تھی۔ ماضی کے سارے بادشاہ آسمان پر تاروں سے ہمیں جھانک رہے ہیں۔ جب بھی تم اپنے آپ کو تنہا محسوس کرو‘تویاد رکھنا وہ آسمان پرتاروں کے روپ میں تمہاری رہنمائی کے لیے موجود ہوںگے اورانہیں میں سے ایک ستارہ میں بھی ہوں گا۔
اچانک مجھے احساس ہوتا ہے میرے سرپرتاروں بھراآسمان ہے۔ آسمان پر چمکتے ستاروں میں ایک ستارہ سب سے روشن ہے‘ یہ ستارہ مجھے بہت کچھ یاد دلارہاہے۔
 Published in Dunya Newspaper 

1 comment: