پنجاب کی پہلی مزاحمت
شاہد صدیقی
اسلام آباد سے ایک سو پچاس کلو میٹر اور منڈی بہائوالدین سے چھ کلومیٹر دور ٹلہ مونگ میری منزل ہے۔ یہ محض قصبہ نہیں مزاحمت کا استعارہ ہے۔جوں جوں مونگ کا قصبہ قریب آرہا ہے میں تاریخ میں ماضی کا سفر کر رہا ہوں اور اب مونگ کا قصبہ میرے نگاہوں کے سامنے ہے۔ میں ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چلتا ہوا ٹیلے کی بلندی کی طرف جا رہا ہوں ۔ٹیلے کے بلند ترین مقام پرپہنچ کر میں اردگرد نظر دوڑاتا ہوں‘ دور دور کے منظر یہاںسے واضح نظر آرہے ہیں۔میں ایک بڑے سے پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہوںاور خود سے پوچھتا ہوں ''تو کیا یہی وہ جگہ ہے‘ جہاں پورس اور سکندر اعظم کے درمیان گھمسان کا رن پڑا تھا۔
ٹیلے پر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی ہے‘ آسماں پر بادل اکٹھے ہو رہے ہیں‘ میں ٹانگیں پسار کرآنکھیں موند لیتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں یہی جگہ تھی‘ مئی کا مہینہ تھا‘